Urdu book · پیغمبرِ انقلاب

آغاز دعوت

Urdu book, p. 175

By Maulana Wahiduddin Khan

پاس گفتگو کے لیے بھیجا۔ وہ آپ کے پاس پہنچ کر خود ہی مرعوب ہو گیا: وَلَمْ يَخْرُجْ إِلَى أَهْلِهِ وَاحْتَبَسَ عنهم، فقال أبو جهل: والله يا معشر قريش مَا تَرَى عُتْبَةَ إِلَّا صَبًّا إِلَى مُحَمَّدٍ وَأَعْجَبَهُ طَعَامُهُ، وَمَا ذَاكَ إِلَّا مِنْ حَاجَةٍ أَصَابَتْهُ، انْطَلِقُوا بِنَا إِلَيْهِ فَأْتُوهُ. فقال أبو جهل: وَاللَّهِ يَا عُتْبَةُ مَا جِئْنَا إِلَّا أَنَّكَ صَبَوْتَ إِلَى مُحَمَّدٍ وَأَعْجَبَكَ أَمْرُهُ، فَإِنْ كَانَ بِكَ حَاجَةٌ جَمَعْنَا لَكَ مِنْ أَمْوَالِنَا مَا يُغْنِيكَ عَنْ طَعَامِ مُحَمَّدٍ. فَغَضِبَ وَأَقْسَمَ بِاللَّهِ لَا يُكَلِّمُ مُحَمَّدًا أَبَدًا (البدايه والنهایہ، جلد 3، صفحہ 80)۔ یعنی، اور عقبہ اس کے بعد گھر بیٹھا رہا اور لوگوں کے پاس نہ گیا۔ ابو جہل نے کہا اے برادران قریش، خدا کی قسم، میرا خیال ہے کہ عقبہ محمد کی طرف مائل ہو گیا اور اسے محمد کا کھانا پسند آ گیا اور یقیناً اسے کسی حاجت کی بنا پر ایسا کرنا پڑا۔ آؤ ہم عقبہ کے پاس چلیں۔ چنانچہ وہ گئے۔ ابو جہل نے کہا اے عقبہ: خدا کی قسم ہم کو اس لیے آنا پڑا کہ تم محمد کی طرف مائل ہو گئے اور ان کا معاملہ تم کو پسند آگیا۔ اگر تمہیں ضرورت ہو تو ہم تمہارے لیے اتنا مال جمع کر دیں جو تمہیں محمد کے کھانے سے بے نیاز کر دے، عقبہ یہ سن کر بگڑ گیا اور قسم کھا کر کہا کہ میں محمد سے کبھی بات نہ کروں گا۔ اسی طرح عبد اللہ بن عباس سے منقول ہے کہ ولید بن مغیرہ آپ کے پاس آیا۔ آپ نے اس کو قرآن سنایا۔ قرآن کے ادب نے اس کو شدید طور پر متاثر کیا۔ ابو جہل کو معلوم ہو اتو وہ ولید بن مغیرہ کے یہاں پہنچا اور اس سے کہا، لوگوں کا ارادہ ہے کہ تمہارے لیے مال جمع کریں۔ کیوں کہ تم کو محمد کے مال کی خواہش ہو گئی ہے۔ اس قسم کی مالی حیثیت سے آپ نے نبوت کا آغاز کیا۔ مگر تیرھویں سال جب آپ نے مدینہ کی طرف ہجرت فرمائی تو آپ کے پاس کچھ باقی نہ رہا تھا حتیٰ کہ آپ نے حضرت ابوبکر سے قرض لے کر سامان سفر درست کیا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page