Urdu book · پیغمبرِ انقلاب

دعوت کی زبان

Urdu book, p. 176

By Maulana Wahiduddin Khan

دعوت کی زبان دعوتِ اسلامی کے بنیادی نکات، منطقی طور پر، اگرچہ اتنے متعین ہیں کہ وہ انتہائی یکسانیت کے ساتھ شمار کیے جاسکتے ہیں۔ مگر دعوت کے کلمات جب داعی کی زبان سے نکلتے ہیں تو اس میں ایک اور چیز شامل ہو جاتی ہے، اور وہ داعی کی اپنی ذات ہے۔ یہ اضافہ دعوت کو ایک متعین مضمون کی ریکارڈنگ کے بجائے اس کو ایک ایسا زندہ عمل بنا دیتا ہے۔ جو باعتبارِ حقیقت ایک ہونے کے باوجود اتنی مختلف شکلوں میں ظاہر ہوتا ہے جس کی کوئی لگی بندھی فہرست نہیں بنائی جاسکتی۔ داعی کے سینے میں خوفِ خدا سے لرزتا ہوا دل، مدعو کے ایمان کے لیے بچوں کی سی معصوم اور بے قرار تمنا، یہ جذبہ کہ اگر میں خدا کے بندوں کو خدا کے قریب کر سکوں تو خدا مجھ سے خوش ہو جائے گا، یہ چیزیں نہ صرف کلماتِ دعوت میں کیفیت کا اضافہ کرتی ہیں بلکہ اس کو باعتبارِ ظاہر انتہائی متنوع بھی بنا دیتی ہیں۔ کیوں کہ مدعو کو متاثر کرنے کا پرجوش جذبہ اس کو مجبور کرتا رہتا ہے کہ ہر ایک کے ذہن کی مکمل رعایت کرتے ہوئے اس کے سامنے اپنی بات رکھے۔ پیغمبرِ اسلام کی زندگی میں یہ چیز کامل درجہ میں نظر آتی ہے۔ آپ شب و روز دعوت پہنچانے میں مشغول رہتے تھے۔ مگر آپ کا طریقہ یہ نہ تھا کہ کچھ مقرر الفاظ کو ہر ایک کے سامنے دہرادیا کریں، بلکہ مخاطب کی رعایت کرتے ہوئے اس کے سامنے اپنی بات رکھتے تھے۔ مکہ کے ابتدائی زمانہ میں ایک بار آپ نے ابوسفیان اور ان کی بیوی ہند کو دعوت دی ۔ ایک روایت کے مطابق آپ نے حسب ذیل الفاظ کہے : يَا أَبَا سُفْيَانَ بْنَ حَرْبٍ، وَيَا هِنْدُ بِنْتَ عُتْبَةَ، وَاللَّهِ لَتَمُوتُنَّ ثُمَّ لَتُبْعَثُنَّ، ثُمَّ لَيَدْخُلَنَّ الْمُحْسِنُ الْجَنَّةَ، وَالْمُسِيءُ النَّارَ، وَإِنَّ مَا أَقُولُ لَكُمْ حَقٌّ (المعجم الاوسط للطبرانی، حدیث نمبر (6615) ۔ یعنی، اے ابوسفیان اور اے ہند! خدا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page