دعوت کی زبان
Urdu book, p. 177
By Maulana Wahiduddin Khan
کی قسم تم کو ضر ور مرنا ہے۔ اس کے بعد تم دوبارہ اٹھائے جاؤ گے۔ پھر جو بھلا ہوگا جنت میں داخل ہوگا اور جو برا ہوگا جہنم میں جائے گا اور میں جو کچھ کہہ رہا ہوں حق کے ساتھ کہہ رہا ہوں۔ ابن خزیمہ نے نقل کیا ہے کہ مکہ کے ایک بزرگ حصین سے آپ کی گفتگو اس طرح ہوئی: یَا حُصَيْنُ، كَمْ إِلَھاً تَعْبُدُ الْيَوْمَ؟ قَالَ: سَبْعَةً فِي الْأَرْضِ، وَإِلَھاً فِي السَّمَاءِ، قَالَ: فَإِذَا أَصَابَكَ الضُّرُّ مَنْ تَدْعُو؟ قَالَ: الَّذِي فِي السَّمَاءِ، قَالَ: فَإِذَا ھَلَکَ الْمَالُ مَنْ تَدْعُو؟ قَالَ: الَّذِي فِي السَّمَاءِ، قَالَ: فَيَسْتَجِيبُ لَكَ وَحْدَهُ، وَتُشْرِكُھُمْ مَعَھُ؟ ( التوحید لابن خزیمہ ، جلد 1 ، صفحہ 277 ) ۔ یعنی ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے حصین! کتنے معبودوں کی پرستش کرتے ہو۔ حصین نے کہا سات کی زمین میں اور ایک جو آسمان پر ہے۔ آپ نے فرمایا۔ جب مصیبت آئے تو کس کو پکارتے ہو۔ حصین نے کہا آسمان والے کو۔ آپ نے فرمایا جب مال پر تباہی آئے تو کس کو پکارتے ہو۔ حصین نے کہا آسمان والے کو۔ آپ نے فرمایا وہ اللہ تو تنہا تمہاری فریادرس کرتا ہے اور تم اس کے ساتھ شریک کرتے ہو۔ امام احمد نے ابو امامہ سے نقل کیا ہے کہ عمرو بن عبسہ السلمی آپ کے پاس آیا، اور دریافت کیا کہ خدا نے آپ کو کیا چیز دے کر بھیجا ہے ( بِمَا ذَا أُرْسِلْكَ ) آپ نے فرمایا: بِأَنْ تُوصَلَ الْأَرْحَامُ، وَتُحْقَنَ الدِّمَاءُ، وَتُؤْمَنَ السُّبُلُ، وَتُكَسَّرَ الْأَوْثَانُ، وَيُعْبَدَ اللَّهُ وَحْدَهُ لَا يُشْرَكُ بِھِ شَيْئاً ( مسند احمد ، حدیث نمبر 17016 ) ۔ یعنی، یہ کہ صلہ رحمی کی جائے۔ قتل ناحق سے بچایا جائے۔ راستوں میں امن رکھا جائے۔ بتوں کو توڑا جائے۔ صرف ایک خدا کی عبادت کی جائے، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا جائے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader