Urdu book · پیغمبرِ انقلاب

دعوت کی زبان

Urdu book, p. 178

By Maulana Wahiduddin Khan

مدینہ پہنچنے کے بعد اہلِ نجران کو آپ نے دعوتی مکتوب روانہ کیا تو اس کے الفاظ یہ تھے: فَإِنِّي أَدْعُوكُمْ إِلَى عِبَادَةِ اللَّهِ مِنْ عِبَادَةِ الْعِبَادِ، وَأَدْعُوكُمْ إِلَى وَلَايَةِ اللَّهِ مِنْ وَلَايَةِ الْعِبَادِ (البدایۃ والنہایہ، جلد 5، صفحہ 53)۔ یعنی، میں تم کو بندوں کی عبادت سے خدا کی عبادت کی طرف بلاتا ہوں۔ بندوں کی ولایت سے خدا کی ولایت کی طرف بلاتا ہوں۔ ایک مستقل اور اہم ترین تبلیغ کا ذریعہ خود قرآن تھا۔ آپ کا طریقہ یہ تھا کہ جب کوئی شخص ملتا تو اس کو قرآن کا کوئی حصہ پڑھ کر سناتے۔ روایتوں میں اکثر اس قسم کے الفاظ آتے ہیں: ثُمَّ ذَكَرَ الْإِسْلَامَ، وَتَلَا عَلَيْهِمُ الْقُرْآنَ (مسند احمد، حدیث نمبر 23619)، وَعَرَضَ عَلَيْهِمُ الْإِسْلَامَ وَتَلَا عَلَيْهِمُ الْقُرْآنَ (الطبقات الکبریٰ، جلد 1، صفحہ 170)۔ قرآن کی کشش عربوں کے لیے اتنی حیرت انگیز تھی کہ اسلام کے بعض کڑمخالفین بھی راتوں کو چھپ کر آپ کے مکان کے پاس آتے اور آپ قرآن پڑھ رہے ہوتے تو دیوار سے لگ کر اسے سنتے۔ قرآن کا آسمانی ادب عربوں کو بے پناہ طور پر متاثر کرتا تھا۔ ولید بن مغیرہ جب قریش کا نمائندہ بن کر آپ کے پاس آیا تو آپ نے اس کو قرآن کے حصے پڑھ کر سنائے۔ اس سے وہ اتنا مرعوب ہوا کہ واپس جا کر قریش سے کہا یہ تو اتنا بلند کلام ہے کہ دوسرے تمام کلام اس کے آگے پست ہو جاتے ہیں (وَإِنَّهُ لَيَعْلُو وَمَا يُعْلَى، وَإِنَّهُ لَيَحْطَمُ مَا تَحْتَهُ) شعب الایمان للبیہقی، حدیث نمبر 133۔ تبلیغ اسلام کے لیے قرآن سنانا اس زمانہ میں ایک عام طریقہ بن گیا تھا۔ مصعب بن عمیر جب مبلغ کی حیثیت سے مدینہ بھیجے گئے تو ان کا طریقہ یہ تھا کہ لوگوں سے باتیں کرتے اور قرآن سناتے (يُحَدِّثُهُمْ وَيَقُصُّ عَلَيْهِمُ الْقُرْآنَ) قرآن سنانے کی وجہ سے ان کا نام مقری پڑ گیا تھا (وَكَانَ يُدْعَى الْمُقْرِئُ) ۔ المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر 849۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page