پیغمبرِ انقلاب
Urdu book, p. 179
By Maulana Wahiduddin Khan
مکہ میں آپ کی دعوت انتہائی سنجیدہ اور علمی انداز میں قرآن کے اعلیٰ ادب کے زیر سایہ چل رہی تھی۔ دوسری طرف مخالفین کے پاس سب وشتم کے سوا اور کچھ نہ تھا، یہاں تک کہ مکہ کے سنجیدہ حلقوں میں کہا جانے لگا کہ محمد کے مخالفین کے پاس محمد کے جواب میں کوئی ٹھوس بات نہیں ہے۔ مکہ کے اعیان واشراف نے ایک خصوصی اجتماع میں آپ کو بلا کر آپ سے بات کرنے کا منصوبہ بنایا تو اس کی وجہ ابن ہشام کی روایت کے مطابق یہ تھی کہ وہ اپنی قوم کے سامنے بری الذمہ ہو جائیں (اِبْعَثُوا إِلَى مُحَمَّدٍ فَكَلِّمُوهُ وَخَاصِمُوهُ حَتَّى تُعْذِرُوا فِيهِ) سیرت ابن هشام، جلد 1، صفحه 295۔ عربوں کی صلاحیت جہاں تک دعوت کی قبولیت کا تعلق ہے، اس کا معاملہ صرف دعوت کی سچائی یا داعی کی جدو جہد پر منحصر نہیں ہوتا۔ اس سے زیادہ وہ مدعو کے اپنے حالات پر موقوف ہوتا ہے۔ عرب کے جغرافیہ میں جو انسانی عنصر جمع تھا، وہ اس لحاظ سے انتہائی قیمتی تھا، اس کی ظاہری جہالت اوراکھڑ پن کے پیچھے فطرت کی سادگی پوری طرح محفوظ تھی۔ 30 لاکھ کلو میٹر رقبہ والا مسطح اور گرم ملک اعلیٰ ترین انسانی اقدار اپنے اندر سمیٹے ہوئے تھا۔ ایک عرب اپنے اونٹ کو جو اس کی معاش کا واحد ذریعہ تھا، ذبح کر کے اس کا گوشت مہمانوں کو کھلا دیتا تھا تا کہ وہ بھوکے نہ رہیں، جس وقت ایک مظلوم شخص جنگل میں ایک عربی کے خیمہ میں پناہ لیتا تو وہ ہاتھ میں تلوار لے کر اس کی حمایت کرتا تھا۔ مخالفین جب تک خیمہ والے کو قتل نہ کر لیتے وہ مظلوم کو خیمہ سے نہیں لے جاسکتے تھے، حتیٰ کہ لوٹنے والے اگر یہ چاہتے کہ وہ قبیلہ کی عورتوں کے قیمتی لباس اور زیورات پر قبضہ کریں تو وہ ان کو ننگا نہیں کر سکتے تھے، اور نہ انہیں چھو سکتے تھے، وہ اپنے لیے لازم سمجھتے تھے کہ عورتوں سے کہیں کہ اپنے زیورات اور لباس اتار دیں۔ جس وقت عورتیں لباس اتار رہی ہوتیں، حملہ کرنے والے اپنا منہ پھیر لیتے تا کہ ان کی نگاہ عورتوں کی برہنگی پر نہ پڑے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader