آدم سے مسیح تک
Urdu book, p. 18
By Maulana Wahiduddin Khan
کے ذریعہ باندھا گیا۔ انجیل نئے عہد نامہ کی بشارت ہے، نہ کہ خود نیا عہد نامہ۔ حضرت مسیح علیہ السلام، نبی آخر الزماں سے چھ سو سال قبل تشریف لائے۔ قرآن کی سورہ الصف میں آیا ہے کہ حضرت مسیح نے فلسطین کے یہودیوں سے کہا کہ اللہ نے مجھے ایک آنے والے نبی سے پہلے اس کا مبشر بنا کر بھیجا ہے جو میرے بعد آئے گا اور اس کا نام احمد ہوگا: وَمُبَشِّرَ بِرَسُولٍ يَأْتِي مِنْ بَعْدِي اسْمُهُ أَحْمَدُ (61:6)۔ احمد اور محمد دونوں ہم معنی الفاظ ہیں جن کے معنی ہیں ”تعریف کیا ہوا“۔ انجیل برناباس میں صاف صاف لفظ ”محمد“ آیا ہے۔ تاہم چونکہ مسیحی حضرات انجیل برناباس کو جعلی انجیل کہتے ہیں، اس لیے ہم اس کا حوالہ مناسب نہیں سمجھتے۔ نیز ہمیں اس میں شبہ ہے کہ حضرت مسیح نے اپنی پیشین گوئی میں لفظ احمد یا محمد کہا ہوگا۔ زیادہ قرین قیاس بات یہ ہے کہ آپ نے احمد یا محمد کے ہم معنی کوئی لفظ استعمال فرمایا۔ محمد بن اسحاق (م 152ھ) کی ایک روایت جو ابن ہشام نے نقل کی ہے، اس کے مطابق یہ لفظ غالباً مُنَحَمَنَا تھا۔ ابن اسحاق سیرت کے موضوع پر سب سے زیادہ اہم ماخذ سمجھے جاتے ہیں۔ ان کی روایت ہے کہ مجھے بتانے والوں نے بتایا کہ یحنس (یوحنا) کی انجیل میں آنے والے رسول کی جو پیشین گوئی ہے، اس میں اس کا نام مُنَحَمَنَا بتایا گیا ہے (تہذیب سيرة ابن هشام جلد اول ، صفحہ (50) ۔ غالباً یہ روایت انہیں اپنے زمانہ کے فلسطینی عیسائیوں کی معرفت پہنچی جو اس وقت اسلام کے زیر اقتدار آ چکا تھا۔ مُنَحَمَنَا سریانی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں ”تعریف کیا ہوا“ ماضی کے اثر سے اُس وقت تک فلسطین کے باشندوں کی زبان سریانی تھی۔ غالب قیاس یہ ہے کہ حضرت مسیح کی مادری زبان میں بولا ہوا اصل لفظ ”مُنَحَمَنَا“ ان کی روایات میں چلا آرہا تھا، جو بعد کے یونانی ترجموں میں فارقلیط بن گیا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader