عربوں کی صلاحیت
Urdu book, p. 180
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ سمجھنا صحیح نہ ہوگا کہ عرب باد یہ بالکل سیدھے سادے، کم فہم لوگ تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ نہایت باشعور تھے اور بہت جلد باتوں کی تہ تک پہنچ جاتے۔ ایک قبیلہ کے سات نومسلم آپ کے پاس آئے۔ گفتگو کے دوران انہوں نے بتایا کہ ہم نے جاہلیت سے پانچ چیزیں سیکھی ہیں۔ ہم ان پر اس وقت تک قائم رہیں گے جب تک آپ ہمیں ان سے منع نہ کر دیں: وَمَا الْخُمُسُ الَّتِي تَخَلَّقْتُمْ بِهَا أَنْتُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ قُلْنَا: الشُّكْرُ عِنْدَ الرَّخَاءِ، وَالصَّبْرُ عِنْدَ الْبَلَاءِ، وَالصِّدْقُ فِي مَوَاطِنِ اللِّقَاءِ، وَالرِّضَى بِمُرِّ الْقَضَاءِ، وَالصَّبْرُ عِنْدَ شَمَاتَةِ الْأَعْدَاءِ. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عُلَمَاءُ حُكَمَاءُ كَادُوا مِنْ صِدْقِهِمْ أَنْ يَكُونُوا أَنْبِيَاءَ (حليۃ الاولياء، جلد 9، صفحہ 279)، وفي رواية: أُدَبَاءُ فَقَهَاءُ عُقَلَاءُ حُلَمَاءُ كَادُوا أَنْ يَكُونُوا أَنْبِيَاءَ مِنْ خِصَالٍ مَا أَشْرَفَهَا وَأَزْيَنَهَا وَأَعْظَمَ ثَوَابَهَا (الزهد الکبیر للبیہقی، حدیث نمبر 970)۔ یعنی، آپ نے فرمایا وہ پانچ خصلتیں کیا ہیں جو تم نے زمانہ جاہلیت سے پائی ہیں۔ آنے والوں نے جواب دیا: خوش حالی میں شکر کرنا۔ مصیبت میں صبر کرنا، مڈبھیڑ کے وقت سچا ثابت ہونا۔ تقدیر پر راضی رہنا۔ کسی کی مصیبت پر خوش نہ ہونا، خواہ وہ دشمن کیوں نہ ہو۔ آپ نے کہا: علم والے، وائز پرسن ہیں، ان کے اندر انبیاء کی شان ہے۔ ایک اور روایت میں ہے: یہ سن کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ لوگ اہل ادب، سمجھدار، عقل والے، بردبار ہیں۔ ان کے اندر انبیاء کی شان ہے۔ کتنی اعلیٰ ہیں ان کی باتیں، کتنی خوبصورت ہیں ان کی باتیں، کتنی زیادہ ثواب والی ہیں ان کی باتیں ۔ ضماد الازدی، قبیلہ از دشنوہ کے ایک شخص تھے۔ وہ بھوت پریت اتارنے کا منتر کیا کرتے تھے۔ ایک بار مکہ آئے تو لوگوں نے آپ کے بارے میں بتایا اور کہا کہ ان پر جن کا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader