Urdu book · پیغمبرِ انقلاب

عربوں کی صلاحیت

Urdu book, p. 181

By Maulana Wahiduddin Khan

اثر ہو گیا ہے۔ ضما د اس خیال سے آپ سے ملے کہ اپنے فن کے ذریعہ آپ کا علاج کریں۔ مگر جب آپ کی باتیں سنیں تو کہا: ’’خدا کی قسم میں نے کاہنوں اور ساحروں کی باتیں سنی ہیں اور شعراء کے کلام دیکھے ہیں۔ مگر ایسے کلمات میں نے کبھی نہیں سنے۔ اپنا ہاتھ بڑھائیے کہ میں بیعت کرلوں‘‘۔ حسب عادت پیغمبرِ اسلام نے اس موقع پر کوئی لمبی تقریر نہیں کی تھی، بلکہ مسلم اور احمد کی روایت کے مطابق صرف اتنا کہا تھا: اِنَّ الْحَمْدَ لِلَّهِ، نَسْتَعِيْنُهُ وَنَسْتَغْفِرُهُ، وَنَعُوْذُ بِاللَّهِ مِنْ شُرُوْرِ أَنْفُسِنَا مَنْ يَهْدِهِ اللَّهُ، فَلَا مُضِلَّ لَهُ، وَمَنْ يُضْلِلْ، فَلَا هَادِيَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيْكَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُوْلُهُ (سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں۔ میں اسی کی تعریف کرتا ہوں اور اسی سے مدد چاہتا ہوں جس کو اللہ ہدایت دے۔ اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا اور جس کو وہ ہدایت نہ دے کوئی اسے ہدایت نہیں دے سکتا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ وہ اکیلا ہے کوئی اس کا شریک نہیں۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ مگر انہیں مختصر کلمات میں انہوں نے معانی کا خزانہ پالیا: فَقَالَ: رُدَّ عَلَيَّ هَذِهِ الْكَلِمَاتِ... لَقَدْ بَلَغْنَ قَامُوْسَ الْبَحْرِ (مسند احمد، حدیث نمبر 2749)۔ یعنی، ضماد نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا، اپنے ان کلمات کو دوبارہ کہیے۔ یہ کلمات تو سمندر کی گہرائی میں اترے ہوئے ہیں۔ ایک عرب کے لیے کہنے اور کرنے میں فرق کا کوئی سوال نہ تھا۔ وہ خود بھی قول و فعل میں سچے تھے اور دوسروں کو بھی سچا سمجھتے تھے۔ جیسے ہی اس کی سمجھ میں بات آجاتی، وہ فوراً اسے مان لینتا۔ ابن اسحاق نے حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت کیا ہے کہ قبیلہ بنی سعد نے ضماد بن ثعلبہ کو اپنا نمائندہ بنا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا۔ وہ مدینہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page