Urdu book · پیغمبرِ انقلاب

عربوں کی صلاحیت

Urdu book, p. 182

By Maulana Wahiduddin Khan

آۓ، اپنی اونٹنی مسجد کے دروازے پر بٹھائی اور اس کو باندھا۔ اس کے بعد مسجد کے اندر داخل ہوۓ۔ آپ اس وقت اپنے اصحاب کے ساتھ بیٹھے ہوۓ تھے۔ ضمام ایک بہادر اور سمجھ دار آدمی تھے۔ انہوں نے آپ کی مجلس کے سامنے کھڑے ہو کر کہا: تم میں سے کون ابن عبد المطلب ہے (أَيُّكُمُ ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ) آپ نے فرمایا، میں ابن عبد المطلب ہوں۔ ضمام نے کہا، اے محمد! آپ نے فرمایا ہاں۔ انہوں نے کہا اے ابن عبد المطلب میں آپ سے کچھ پوچھوں گا اور پوچھنے میں کچھ سختی کروں گا، آپ اس کو محسوس نہ کریں۔ آپ نے فرمایا میں کچھ محسوس نہیں کروں گا۔ جو تمہارے جی میں آۓ پوچھو۔ ضمام نے کہا، میں آپ کو قسم دیتا ہوں آپ کے معبود کی اور ان لوگوں کے معبود کی جو آپ سے پہلے تھے اور ان لوگوں کے معبود کی جو آپ کے بعد آئیں گے، کیا اللہ نے آپ کو رسول بنا کر ہماری طرف بھیجا ہے (اَللَّهُ بَعَثَكَ إِلَيْنَا رَسُولًا) آپ نے فرمایا خدايا ! ہاں۔ ضمام نے کہا میں آپ کو قسم دیتا ہوں آپ کے معبود کی اور ان لوگوں کے معبود کی جو آپ سے پہلے تھے اور ان لوگوں کے معبود کی جو آپ کے بعد آئیں گے، کیا اللہ نے آپ سے کہا ہے کہ ہم کو حکم دیں کہ ہم تنہا اسی کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرائیں اور ان بتوں کو چھوڑ دیں جن کی پرستش ہمارے باپ دادا کرتے تھے۔ آپ نے فرمایا خدايا ! ہاں۔ ضمام نے کہا میں آپ کو قسم دیتا ہوں آپ کے معبود کی اور ان لوگوں کے معبود کی جو آپ سے پہلے تھے اور ان لوگوں کے معبود کی جو آپ کے بعد آئیں گے، کیا اللہ نے آپ کو حکم دیا ہے کہ ہم یہ پانچ وقتوں کی نماز پڑھیں ۔ آپ نے فرمایا ہاں۔ راوی کہتے ہیں کہ اسی طرح انہوں نے زکوۃ، روزہ، حج اور تمام احکام اسلام کا ذکر کیا۔ ہر فریضہ کو مندرجہ بالا طریقہ پر قسم دے کر پوچھتے، یہاں تک کہ جب فارغ ہو گئے تو کہا: فَإِنِّي أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، وَسَأُؤَدِّي هِذِهِ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page