Urdu book · پیغمبرِ انقلاب

عربوں کی صلاحیت

Urdu book, p. 183

By Maulana Wahiduddin Khan

الْفَرَائِضَ، وَأَجْتَنِبُ مَا نَهَيْتَنِي عَنْهُ، ثُمَّ لَا أَزِيدُ وَلَا أُنْقِصُ۔ یعنی، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے رسول ہیں۔ اور اب میں ان فرائض کو ادا کروں گا اور ان چیزوں سے بچوں گا جن سے آپ نے منع کیا ہے۔ اس میں نہ کوئی کمی کروں گا اور نہ کوئی زیادتی۔ پھر اپنی اونٹنی پر بیٹھ کر واپس روانہ ہو گئے اور اپنی قوم میں پہنچ کر انہیں پوری بات بتائی۔ ایک روایت کے مطابق صبح کی شام نہیں ہونے پائی تھی کہ ان کی مجلس کے تمام مردو عورت مسلمان ہو گئے (مسند احمد، حدیث نمبر 2380)۔ ان کے اندر نفاق نہ تھا۔ اقرار اور انکار کے درمیان وہ کسی تیسری چیز کو نہ جانتے تھے۔ جب وہ کسی کو ایک قول دے دیتے تو اس کو ہر حال میں پورا کرتے، خواہ اس کی خاطر جان و مال کی کتنی ہی بڑی قربانی کیوں نہ دینی پڑے۔ عرب کردار کی یہ جھلک یثرب کے قبائل (اوس وخزرج) کی ان تقریروں میں ملتی ہے جو بیعت عقبہ ثانیہ کے مواقع پر ان کے نمائندوں نے کی تھی: إِنَّ الْقَوْمَ لَمَّا اجْتَمَعُوا لِلْبَيْعَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْعَبَّاسُ بْنُ عُبَادَةَ بْنِ نَضْلَةَ الْأَنْصَارِيُّ أَخُو بَنِي سَالِمِ بْنِ عَوْفٍ: يَا مَعْشَرَ الْخَزْرَجِ هَلْ تَدْرُونَ عَلَامَ تُبَايِعُونَ هَذَا الرَّجُلَ؟ قَالُوا: نَعَمْ! قَالَ إِنَّكُمْ تُبَايِعُونَهُ عَلَى حَرْبِ الْأَحْمَرِ وَالْأَسْوَدِ مِنَ النَّاسِ، فَإِنْ كُنْتُمْ تَرَوْنَ أَنَّكُمْ إِذَا أَنْهَكْتَ أَمْوَالَكُم مصيبة، وأشرافكم قتلاً أسْلَمْتُمُوهُ فَمِنَ الْآنَ فَهُوَ وَاللَّهِ إِنْ فَعَلْتُمْ خِزْيُ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، وَإِنْ كُنْتُمْ تَرَوْنَ أَنَّكُمْ أَنَّكُمْ وافون لَهُ بِمَا دَعَوْتُمُوهُ إِلَيْهِ عَلَى نَهْكَةِ الْأَمْوَالِ وَقَتْلِ الْأَشْرَافِ فَخُذُوهُ، فَهُوَ وَاللَّهِ خَيْرُ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ. قَالُوا: فَإِنَّا نَأْخُذُهُ عَلَى مُصِيبَةِ الْأَمْوَالِ وَقَتْلِ الْأَشْرَافِ فَمَا لَنَا بِذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page