پیغمبرِ انقلاب
Urdu book, p. 184
By Maulana Wahiduddin Khan
نَحْنُ وَفِيْنَا؟ قَالَ "الْجَنَّةُ" قَالُوا ابْسُطْ يَدَكَ فَبَسَطَ يَدَهُ (البدایہ والنہایہ، جلد 3، صفحہ 162)۔ یعنی، یثرب کے لوگ جب آپ سے بیعت کے لیے جمع ہوئے تو عباس بن عبادہ نے کہا: اے گروہِ خزرج! کیا تم جانتے ہو کہ تم کس چیز پر ان کے ہاتھ بیعت کر رہے ہو۔ انہوں نے کہا ہاں۔ عباس بن عبادہ نے کہا، تم سرخ و سفید سے جنگ پر بیعت کر رہے۔ اگر تمہارا یہ خیال ہو کہ جب تمہارا مال ضائع ہو اور تمہارے اشراف قتل کیے جائیں تو محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کو ان کی قوم کے حوالے کر دو گے تو ابھی ایسا کر لو۔ کیونکہ بعد کو تم نے ایسا کیا تو خدا کی قسم وہ دنیا و آخرت کی رسوائی ہوگی، اور اگر تمہارا یہ خیال ہو کہ تم نے جو کچھ وعدہ کیا ہے اس کو تم پورا کرو گے، خواہ تمہارے مال ضائع ہوں اور تمہارے اشراف قتل کیے جائیں، تو ان کو اپنے ساتھ لے جاؤ، کیونکہ خدا کی قسم یہ دنیا و آخرت کی بھلائی ہے۔ انہوں نے کہا، ہم آپ کو لیتے ہیں خواہ ہمارے مال تباہ ہوں یا ہمارے اشراف قتل کیے جائیں۔ اے اللہ کے رسول اس کے بدلے میں ہمارے لیے کیا ہے۔ اگر ہم اس قول کو پورا کر دیں۔ آپ نے فرمایا جنت۔ انہوں نے کہا پھر اپنا ہاتھ بڑھائیے، آپ نے ہاتھ بڑھایا اور انہوں نے بیعت کر لی۔ واقعات ثابت کرتے ہیں کہ یہ محض تقریر نہ تھی، بلکہ انہوں نے لفظ بلفظ اپنے اس عہد کو پورا کیا۔ حتیٰ کہ جب اسلام غالب ہو گیا تو اس کے بعد بھی وہ اپنی قربانیوں کے لیے کسی سیاسی معاوضہ کے طالب نہ ہوئے بلکہ خلافت کو مہاجرین کے حوالے کر کے اس پر راضی ہو گئے اور اسی حال میں ایک ایک کر کے اس دنیا سے چلے گئے۔ دعوت کی ہمہ گیری ابن اسحاق نے عبد اللہ بن عباس سے روایت کیا ہے کہ ایک بار قریش کے اشراف

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader