دعوت کی ہمہ گیری
Urdu book, p. 185
By Maulana Wahiduddin Khan
ابو طالب کے یہاں جمع ہوئے۔ ان میں عقبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ، ابوجہل بن ہشام، امیہ بن خلف اور ابوسفیان بن حرب جیسے لیڈر شامل تھے۔ ابو طالب کی معرفت ان لوگوں نے پوچھا کہ آخر آپ ہم سے کیا چاہتے ہیں، آپ نے کہا: كَلِمَةٌ وَاحِدَةً تُعْطُونِيهَا تَمْلِكُونَ بِهَا الْعَرَبَ، وَتَدِينُ لَكُمْ بِهَا الْعَجَمُ (سیرت ابن ہشام، جلد 1، صفحہ 417)، یعنی، میں صرف ایک بات کا مطالبہ کرتا ہوں۔ اگر تم اسے مان لو تو تم سارے عرب کے مالک بن جاؤ گے اور عجم تمہارا مطیع فرمان ہوگا۔ توحید کا کلمہ بظاہر صرف ایک اعتقادی کلمہ ہے۔ مگر اس کے اندر ہر قسم کی انسانی فتوحات کا راز چھپا ہوا ہے۔ یہ انسانی فطرت کی آواز ہے، اس لیے وہ انسانی نفسیات کی انتہائی گہرائیوں میں شامل ہو جاتا ہے اور اکثر خود مخالفین کے اندر اپنے حامی پیدا کر لیتا ہے۔ خالد بن ولید فتح مکہ سے کچھ پہلے اسلام لائے۔ مگر اسلام کی سچائی بہت پہلے سے ان کے قلب میں ان کا پیچھا کیے ہوئے تھی۔ اسلام کے بعد انہوں نے اپنے بارے میں بتایا کہ میرے دل میں بہت پہلے یہ بات پڑ چکی تھی کہ حق قریش کی طرف نہیں بلکہ محمد کی طرف ہے، اور مجھے آپ کے ساتھ مل جانا چاہیے: قَدْ شَهِدْتُ هَذِهِ الْمَوَاطِنَ كُلَّهَا عَلَى مُحَمَّدٍ، فَلَيْسَ مَوْطِنٌ أُشْهُدُهُ إِلَّا أَنْصَرِفُ وَأَنَا أَرَى فِي نَفْسِي أَنِّي مَوْضِعٌ فِي غَيْرِ شَيْءٍ (مغازی الواقدی، جلد 2، صفحہ 746)، یعنی، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف تمام جنگوں میں شریک رہا مگر کوئی جنگ ایسی نہیں جس میں میں شریک ہوا ہوں اور یہ خیال لے کر واپس نہ آیا ہوں کہ میں صحیح جگہ نہیں کھڑا ہوں۔ اسی طرح بہت سے لوگوں کے بارے میں روایتیں ملتی ہیں کہ ان کے دل میں بہت

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader