Urdu book · پیغمبرِ انقلاب

دعوت کی ہمہ گیری

Urdu book, p. 186

By Maulana Wahiduddin Khan

پہلے سے اسلام کے لیے نرم گوشہ پیدا ہو چکا تھا۔ حتیٰ کہ وہ اس کا خواب دیکھنے لگے۔ مثلاً خالد بن سعید بن العاص نے اسلام سے پہلے خواب دیکھا کہ وہ آگ کے بہت بڑے گڑھے کے کنارے کھڑے ہوئے ہیں۔ کوئی انہیں دھکا دے کر اس میں گرانا چاہتا ہے۔ اتنے میں پیغمبرِ اسلام آئے اور انہوں نے ان کو آگ میں گرنے سے بچا لیا (وکأن أباه يدقعه فيها، و رأى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آخذا بحقويه لا يقع فيها) اسد الغابة لابن الأثیر، جلد 1، صفحہ 574۔ دعوتی عمل بظاہر اقتصادیات سے کوئی تعلق نہیں رکھتا۔ مگر بالواسطہ پر وہ زبردست اقتصادی عمل ہے۔ کیونکہ دعوت کے نتیجہ میں جب ایک شخص اسلام کو اختیار کرتا ہے تو اس کے تمام ذرائع بھی خود بخود اسلام کو حاصل ہو جاتے ہیں۔ مکہ کے ابتدائی زمانہ میں خدیجہ کی دولت اسلام کے کام آتی رہی۔ اس کے بعد حضرت ابوبکر ایمان لائے جنہوں نے تجارت سے چالیس ہزار درہم کمائے تھے ان کا سرمایہ اسلامی تحریک کا اقتصادی سہارا بنا۔ ہجرت کے موقع پر وہ چھ ہزار درہم لے کر گھر سے روانہ ہوئے تھے جس سے سفر کے تمام اخراجات پورے کیے گئے۔ غزوہ تبوک میں حضرت عثمان نے دس ہزار دینار دیے جس سے لشکر کی ضروریات کا تہائی حصہ ادا کیا گیا (السيرة الحلبية، جلد 3، صفحہ 184 ؛ مغازی الواقدی، جلد 3، صفحہ 991 )۔ حضرت عبد الرحمن بن عوف نے صرف ایک موقع پر پانچ سو گھوڑے جہاد کے لیے دیے (الاصابة في تمييز الصحابة، جلد 4، صفحہ 291 )۔ اسی طرح جو لوگ اسلام قبول کرتے تھے ان کی جان کے ساتھ ان کا مال بھی اسلام کے خزانہ کا ایک جزء بن جاتا تھا۔ توحید کا نظریہ واحد نظریہ ہے جس میں سماجی تقسیم اور طبقاتی امتیاز کے لیے کوئی گنجائش نہیں۔ اس لیے جب اس نظریہ کی بنیاد پر کوئی تحریک اٹھتی ہے تو وہ عوام کو حیرت انگیز طور پر متاثر کرتی ہے۔ کیونکہ وہ محسوس کرتے ہیں کہ توحید کے زیر سایہ وہ مساوات اور

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page