دعوت کی ہمہ گیری
Urdu book, p. 187
By Maulana Wahiduddin Khan
انسانی عظمت کا حقیقی مقام پا سکتے ہیں۔ مغیرہ بن شعبہ فارس کے سپہ سالار رستم کے دربار میں گئے تو درباریوں پر ان کی تقریر کاردعمل ابن جریر کی روایت کے مطابق یہ تھا: فَقَالَتِ السُّفْلَةُ: صَدَقَ وَاللَّهِ الْعَرَبِيُّ، وَقَالَتِ الدَّهَّاقِينُ: وَاللَّهِ لَقَدْ رَمَى بِكَلَامٍ لَا يَزَالُ عَبِيدُنَا يَنْزِعُونَ إِلَيْهِ، قَاتَلَ اللَّهُ أَوْلَینَا، مَا كَانَ أَحْمَقَهُمْ حِينَ كَانُوا يُصَغِّرُونَ أَمْرَ هَذِهِ الْأُمَّةَ! (تاریخ طبری، جلد 3، صفحہ (522)۔ یعنی، نیچے کے لوگوں نے کہا، خدا کی قسم، اس عربی نے سچ بات کہی۔ سرداروں نے کہا، خدا کی قسم اس نے ایسی بات پھینکی ہے کہ ہمارے سب غلام اس کی طرف چلے جائیں گے، خدا ہمارے پہلوں کو غارت کرے، وہ کس قدر احمق تھے کہ انہوں نے اس قوم کے معاملہ کو ہلکا سمجھا۔ نبوت کے تیرہویں سال پیغمبر اسلام حضرت ابو بکر کے ساتھ مدینہ پہنچے تو یہاں کی آبادی کے تقریباً 500 آدمی آپ کے استقبال کے لیے جمع ہوئے اور انہوں نے کہا: اِنْطَلِقَا آمِنَيْنِ مُطَاعَيْنِ (التاريخ الاوسط للبخاری، حدیث نمبر 14)۔ یعنی، آئیے، آپ یہاں محفوظ ہیں اور ہمارے سردار ہیں۔ مدینہ کی یہ سرداری آپ کو کس طرح حاصل ہوئی، جواب یہ ہے کہ دعوت کے ذریعہ۔ مدینہ (یثرب) کا پہلا شخص جس کو آپ نے اسلام کی دعوت دی، غالباً سوید بن صامت خزرجی ہے۔ اس سے آپ نے اسلام کا ذکر کیا تو اس نے کہا’’شاید آپ کے پاس وہی ہے جو میرے پاس ہے‘‘ آپ نے پوچھا تمہارے پاس کیا ہے۔ وہ بولا ’’حکمتِ لقمان‘‘ (مَجَلَّةُ لُقْمَانَ)۔ آپ نے فرمایا: بیان کرو، اس نے کچھ اشعار سنائے۔ آپ نے فرمایا، میرے پاس قرآن ہے جو اس سے بھی افضل ہے (وَالَّذِي مَعِيَ أَفْضَلُ مِنْ هَذَا)۔ اس کے بعد آپ نے اس کو قرآن سنایا وہ فوراً مسلمان ہو گیا۔ یثرب واپس ہو کر جب اس نے اپنے قبیلہ کے سامنے اسلام کا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader