Urdu book · پیغمبرِ انقلاب

دعوت کی ہمہ گیری

Urdu book, p. 188

By Maulana Wahiduddin Khan

پیغام رکھا تو انہوں نے اس کو قتل کر دیا (سیرت ابن هشام، جلد 1 ، صفحه 427) ۔ اس کے بعد یثرب کے ایک سردار ابوالحسین انس بن رافع مکہ آئے ، ان کے ساتھ بنی عبد الاشھل کے جوانوں کی ایک جماعت بھی تھی ۔ یہ لوگ اس لیے مکہ آئے تھے کہ قبیلہ خزرج کی حمایت کے لیے قریش سے معاہدہ کریں۔ آپ کو ان کی آمد کی اطلاع ملی تو آپ ان کے پاس گئے اور کہا: ’’تم لوگ جس کام کے لیے آئے ہو کیا اس سے زیادہ بھلی بات میں تم کو نہ بتاؤں۔‘‘ اس کے بعد آپ نے توحید کی دعوت ان کے سامنے پیش کی۔ ان کے ایک نوجوان ایاس بن معاذ بولے: ’’اے قوم ! خدا کی قسم یہ بات اس سے بہتر ہے جس کے لیے تم آئے ہو۔‘‘ مگر وفد کی سمجھ میں یہ بات نہیں آئی۔ انہوں نے کہا: دَعْنَا مِنْكَ، فَلَعَمْرِي لَقَدْ جِئْنَا لِغَيْرِ هَذَا (چھوڑو، ہم دوسرے کام کے لیے آئے ہیں ) ۔ وہ یثرب واپس گئے اور اس کے جلد ہی بعد اوس اور خزرج کے درمیان وہ جنگ چھڑ گئی جو بعاث کے نام سے مشہور ہے (سیرت ابن هشام، جلد 1 ، صفحه 28-427 ) ۔ حبیب بن عبدالرحمن بیان کرتے ہیں کہ یثرب کے دو شخص سعد بن زرارہ اور ذکوان بن قیس مکہ آئے اور عتبہ بن ربیعہ کے یہاں ٹھہرے۔ پیغمبر اسلام کا تذکرہ سنا تو آپ سے ملنے کے لیے آئے۔ آپ نے ان دونوں کو اسلام کی دعوت دی اور قرآن پڑھ کر سنایا۔ دونوں نے اسلام قبول کر لیا (فَعَرَضَ عَلَيْهِمَا الإِسْلَامَ وَقَرَأَ عَلَيْهِمَا الْقُرْآنَ فَأَسْلَمَا) ۔ پھر وہ اپنے میزبان عتبہ بن ربیعہ کے پاس نہیں گئے بلکہ آپ کے یہاں سے سیدھے یثرب واپس چلے گئے ۔ یہ ان پہلے لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے اہل یثرب تک اولاً اسلام پہنچایا (الطبقات الکبریٰ لابن سعد، جلد 3، صفحه (608) ۔ یہ نبوت کے دسویں سال کا واقعہ ہے ۔ نبوت کے گیارہویں سال حج کے موقع پر یثرب سے قبیلہ خزرج کے چھ آدمی آئے۔ انہوں نے آپ کے ہاتھ پر بیعت کی اور واپس جا کر اپنی بستی میں اسلام کی تبلیغ شروع کی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page