پیغمبرِ انقلاب
Urdu book, p. 189
By Maulana Wahiduddin Khan
اگلے سال (12 نبوی میں) بارہ آدمیوں نے آ کر بیعت کی جو اسلام کی تاریخ میں عقبہ اولیٰ (621ء) کے نام سے مشہور ہے۔ نبوت کے تیرھویں سال اس تعداد میں مزید اضافہ ہو اور یثرب کے 75 لوگ مکہ حاضر ہوئے اور بیعت عقبہ ثانیہ کا واقعہ وجود میں آیا۔ مکہ کے برعکس یثرب میں ایک خاص بات یہ ہوئی کہ پہلے ہی مرحلہ میں وہاں کے ممتاز لوگوں نے اسلام قبول کر لیا (أَسْلَمَ أَشْرَافُهُمْ) حليۃ الاولیاء، جلد 1، صفحہ 107۔ چوں کہ یہ قبائلی دور تھا اور قبائل میں یہ رواج تھا کہ سردار قبیلہ کا جو مذہب ہوتا تھا وہی پورے قبیلہ کا مذہب ہوتا تھا۔ اس لیے یثرب میں بہت تیزی سے اسلام پھیلنے لگا۔ حتی کہ کوئی گھر نہ بچا جس میں اسلام داخل نہ ہو گیا ہو (حَتَّى لَمْ يَبْقَ دَارٌ مِنْ دُورِ الْأَنْصَارِ إِلَّا وَفِيهَا رَهْطُ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ) مسند احمد، حدیث نمبر 14456۔ اس طرح جب یثرب کی آبادی میں مسلمانوں کی اکثریت ہو گئی تو فطری طور پر وہی بستی میں سب سے زیادہ با اثر ہو گئے۔ فَكَانَ الْمُسْلِمُونَ أَعَزَّ أَهْلُهَا، وَصَلَحَ أَمْرُهُمْ (المجم الكبير للطبرانی، حدیث نمبر 849)۔ یعنی، پس مسلمان مدینہ کے سب سے زیادہ با اثر گروہ بن گئے اور ان کا معاملہ درست ہو گیا۔ دعوت کے مصالح ہر دور میں ایسے لوگ ہوتے ہیں جو زمانہ کے اثرات سے محفوظ رہتے ہیں اور اپنی فطرت کی آواز پر کان لگائے ہوئے ہوتے ہیں۔ عرب معاشرہ میں بھی فطری سادگی اور ملت ابراہیمی کے بقایا کے نتیجہ میں ایسے متعدد لوگ تھے جو سچائی کی تلاش میں تھے اور بت پرستی کو ناپسند کرتے تھے۔ عرف عام میں ان کو حنفاء کہا جاتا تھا۔ مثلاً قس بن ساعدہ، ورقہ بن نوفل وغیرہ۔ ایسے ہی ایک شخص حنیف جندب بن عمر والدی تھے ۔ وہ زمانہ جاہلیت میں کہا کرتے تھے :

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader