نبوتِ محمدی کا ظہور
Urdu book, p. 19
By Maulana Wahiduddin Khan
نبوت محمدی کا ظہور ایک طرف افریقہ اور دوسری طرف ایشیا اور یورپ کے وسط میں عرب کا جزیرہ نما قدیم آباد دنیا کا جغرافی قلب معلوم ہوتا ہے۔ مگر قدیم زمانہ کے سیاسی حوصلہ آزماؤں میں کوئی نہیں ملتا جس نے اس علاقہ کو اپنی سلطنت میں شامل کرنے کی کوشش کی ہو۔ تمام فوجی مہمیں عرب کے سرحدی علاقوں۔ عراق، شام، فلسطین، لبنان اور یمن پر آ کر ٹھہر گئیں۔ اس سے آگے نجد وحجاز کے علاقہ کو اپنی حکومت میں شامل کرنے کی ضرورت انہوں نے نہیں سمجھی۔ کیوں کہ تین طرف سے سمندروں سے گھرا ہونے کے باوجود یہاں ان کے لیے خشک پہاڑ اور اڑتی ہوئی ریت کے سوا اور کچھ موجود نہ تھا۔ اسی ”بے آب و گیاہ“ وادی کی مرکزی بستی مکہ میں پیغمبر اسلام محمد بن عبد اللہ پیدا ہوئے ۔ آپ کے والد عبد اللہ بن عبد المطلب آپ کی پیدائش سے چند ماہ پہلے انتقال کر گئے ۔ والدہ کا انتقال بھی اس وقت ہو گیا جب کہ آپ کی عمر ابھی صرف چھ سال تھی۔ اب آپ کے سر پرست آپ کے دادا عبد المطلب بن ہاشم تھے تاہم دو سال بعد وہ بھی اس دنیا سے چلے گئے۔ اس کے بعد آپ کی سر پرستی آپ کے چچا ابو طالب بن عبد المطلب کے حصہ میں آئی۔ مگر ہجرت کے تین سال پہلے، آپ کی زندگی کے مشکل ترین مرحلہ میں، ان کے لیے بھی موت کا پیغام آ گیا۔ اگرچہ فطرت سے آپ نے بڑی شان دار شخصیت پائی تھی۔ بچپن میں آپ کو دیکھنے والے کہہ اٹھتے: اِنَّ لَہذَا الْغُلَامَ لَشَأناً (الوفا لابن الجوزی، صفحہ (57)۔ اس لڑکے کا مستقبل عظیم ہے۔ جب بڑے ہوئے تو آپ کے شخصی رعب و وقار کا حال یہ تھا کہ حضرت علی کے الفاظ میں: مَنْ رَاٰهُ بَدِيْهَةً هَابَهُ، وَ مَنْ خَالَطَهُ مَعْرِفَةً اَحَبَّهُ (سنن الترمذی، حدیث نمبر (3638)۔ جو آپ کو پہلی بار دیکھتا مرعوب ہو جاتا، جو ساتھ بیٹھتا وہ آپ سے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader