Urdu book · پیغمبرِ انقلاب

دعوت کے مصالح

Urdu book, p. 190

By Maulana Wahiduddin Khan

اِنَّ لِلْخَلْقِ خَالِقاً لَّا اُدْرِی مَنْ هُوَ (الاصابة فی تمییز الصحابة لابن حجر العسقلانی، جلد 3، صفحہ 424) ۔ یعنی یقیناً خلق (creation) کا کوئی خالق ہے، مگر میں نہیں جانتا وہ کون ہے۔ جب انہیں آپ کی بعثت کی خبر ملی تو وہ اپنی قوم کے 75 آدمیوں کو ساتھ لے کر آئے اور سب نے اسلام قبول کر لیا (الاصابة فی تمییز الصحابة، جلد 3، صفحہ 424) ۔ ابو ذر غفاری بھی اسی قسم کے متلاشیوں (seekers) میں سے تھے۔ انہیں آپ کے بارے میں علم ہوا تو اپنے بھائی کو مکہ بھیجا کہ آپ کی خبر لے کر آئے۔ بھائی نے واپس جا کر آپ کے بارے میں جو رپورٹ دی اس کا ایک فقرہ یہ بھی تھا : فرأیت رجلا يسمّیه الناس الصابئ هو أشبه الناس بك (الاصابة في تمييز الصحابة، جلد 7، صفحہ 107) ۔ یعنی، میں نے ایک آدمی کو دیکھا جس کو لوگ بد دین کہتے تھے، وہ تم سے بہت زیادہ مشابہ تھا۔ ایسے لوگوں کو آپ کی دعوت سمجھنے میں دشواری پیش نہ آئی۔ جب کسی معاشرے میں دعوت کا آغاز ہوتا ہے تو اس کا پیچ ایسے ایسے مقامات پر پڑتا ہے جس کا اندازہ خود داعی کو بھی نہیں ہوتا۔ عرب میں جو لوگ ”دیر“ سے اسلام لائے۔ اس کا مطلب یہ نہ تھا کہ ان پر بالکل اچانک اسلام منکشف ہو گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اعلیٰ اخلاقی زندگی، آپ کا شب و روز دعوت و تبلیغ میں مشغول رہنا، مخالفتوں کی وجہ سے آپ کا اور آپ کے پیغام کا مستقل چرچا جس کی وجہ سے ہر ایک کے لیے آپ کا وجود ایک سوالیہ نشان بن گیا تھا۔ ان چیزوں نے بے شمار عربوں کے ذہن میں اسلام کے بیچ ڈال دیے تھے۔ قبائلی عصبیت اور اسلاف پرستی کی وجہ سے ایک شخص بظاہر ضد اور عناد میں مبتلا ہوتا۔ مگر اندر اندر اسلام کی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page