Urdu book · پیغمبرِ انقلاب

دعوت کے مصالح

Urdu book, p. 191

By Maulana Wahiduddin Khan

خاموش پرورش کو بھی وہ روک نہ سکتا تھا۔ حضرت عمر کے اسلام کے بارے میں عام شہرت یہ ہے کہ اچانک ایک واقعہ آپ کے اسلام کا سبب بن گیا۔ آخری مرحلہ میں آپ کے اسلام کا محرک بلاشبہ یہی واقعہ تھا۔ مگر اس کے ابتدائی بیج آپ کے دل میں بہت پہلے پڑ چکے تھے: عَنْ أُمِّ عَبْدِ اللَّهِ بِنْتِ أَبِي حَثْمَةَ، قَالَتْ: وَاللَّهِ إِنَّا لَنَتَرْتَحَلُ إِلَى أَرْضِ الْحَبَشَةِ، وَقَدْ ذَهَبَ عَامِرٌ فِي بَعْضِ حَاجَاتِنَا، إِذَا أَقْبَلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ حَتَّى وَقَفَ عَلَيَّ وَهُوَ عَلَى شِرْكِهِ - قَالَتْ: وَكُنَّا نَلْقَى مِنْهُ الْبَلَاءَ أَذًى لَنَا وَشِدَّةً عَلَيْنَا - قَالَتْ: فَقَالَ: إِنَّهُ لِلَانْطِلَاقِ يَا أُمَّ عَبْدِ اللَّهِ. قَالَتْ: فَقُلْتُ: نَعَمْ وَاللَّهِ، لَنَخْرُجَنَّ فِي أَرْضِ اللَّهِ، آذَيْتُمُونَا وَقَهَرْتُمُونَا، حَتَّى يَجْعَلَ اللَّهُ مَخْرَجًا. قَالَتْ: فَقَالَ: صَحِبَكُمُ اللَّهُ، وَرَأَيْتُ لَهُ رِقَّةً لَمْ أَكُنْ أَرَاهَا، ثُمَّ انْصَرَفَ وَقَدْ أَحْزَنَهُ - فِيمَا أَرَى - خُرُوجُنَا (سیرت ابن ہشام، جلد 1، صفحہ 43-342)۔ یعنی، ام عبد اللہ بنت ابی حشمہ کہتی ہیں ، خدا کی قسم ہم لوگ ملک حبش کی طرف کوچ کر رہے تھے اور میرے شوہر عامر اپنی بعض ضروریات کے لیے گئے ہوئے تھے۔ اتنے میں عمر بن الخطاب آگئے اور میرے پاس آ کر کھڑے ہو گئے ، وہ ابھی تک اسلام نہ لائے تھے۔ ہم لوگوں کو ان سے بڑی تکلیفیں اور سختیاں پہنچی تھیں۔ انہوں نے کہا، اے ام عبداللہ! کوچ ہو رہا ہے۔ میں نے کہا ہاں، خدا کی قسم ہم لوگ اللہ کی زمین میں سے کسی زمین میں چلے جائیں گے۔ اس لیے کہ تم لوگ ہمیں ستاتے ہو اور ہمارے اوپر زیادتیاں کرتے ہو۔ یہاں تک کہ اللہ ہمارے لیے کوئی نکاسی کی جگہ پیدا کر دے۔ ام عبداللہ کہتی ہیں۔ عمر نے کہا خدا تمہارا ساتھی ہو۔ یہ کہتے ہوئے ان کی آنکھوں میں رقت پیدا ہوگئی جو میں نے کبھی نہیں دیکھی تھی۔ اس کے بعد وہ چلے گئے اور ان کو ہمارے مکہ سے جانے کا بہت ملال تھا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page