دعوت کے مصالح
Urdu book, p. 192
By Maulana Wahiduddin Khan
ہر زمانہ میں کچھ ایسے خیالات ہوتے ہیں جو عوامی ذہنوں میں جڑ پکڑ جاتے ہیں۔ جب تک خیالات کی یہ دیوار نہ ٹوٹے کوئی آواز محض فلسفیانہ صداقت کی بنیاد پر ان کے اندر قبولیت حاصل نہیں کر سکتی۔ ابتدائی زمانہ میں اہل عرب کی طرف سے جس اختلاف کا مظاہرہ ہوا، وہ محض ہٹ دھرمی یا مصلحت پرستی کی بنا پر نہ تھا۔ بلکہ اس لیے تھا کہ ان کی سمجھ میں نہ آتا تھا کہ کعبہ کے متولیوں کے سوا بھی کسی کا دین صحیح اور برحق ہو سکتا ہے۔ جو عرب قبائل یہود کے پڑوس میں بسے ہوئے تھے وہ نسبتاً اس قسم کی اعتقادی پیچیدگی سے محفوظ تھے، کیوں کہ یہود سے وہ سنتے رہتے تھے کہ ہماری کتابوں میں لکھا ہوا ہے کہ عرب میں ایک نبی کا ظہور ہوگا: فَلَمَّا سَمِعُوا قَوْلَهُ أَنْصَتُوا، وَاطْمَأَنَّتْ أَنْفُسُهُمْ إِلَى دَعْوَتِهِ وَعَرَفُوا مَا كَانُوا يَسْمَعُونَ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ مِنْ ذِكْرِهِمْ إِيَّاهُ بِصِفَتِهِ، وَمَا يَدْعُوهُمْ إِلَيْهِ، فَصَدَّقُوهُ وَآمَنُوا بِهِ (المجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر 849)۔ یعنی، انصار کے لوگوں نے جب آپ کا کلام سنا تو وہ چپ ہو گئے، ان کا دل آپ کی دعوت پر مطمئن ہو گیا۔ انہوں نے اہل کتاب سے آپ کے جو اوصاف سنے تھے اور جس چیز کی طرف آپ نے ان کو بلایا تھا، ان کو پہچانا۔ انہوں نے آپ کی تصدیق کی اور آپ پر ایمان لائے۔ عکاظ کے میلے میں جب آپ بنو کندہ کے خیموں میں گئے اور ان کے سامنے اپنی بات پیش کی تو ایک نوجوان بول اٹھا: يَا قَوْمِ! اِسْبِقُوا إِلَى هَذَا الرَّجُلِ قَبْلَ أَنْ تُسْبَقُوا إِلَيْهِ فَوَ اللَّهِ إِنَّ أَهْلَ الْكِتَابِ لَيُحَدِّثُونَ أَنَّ نَبِيًّا يَخْرُجُ مِنَ الْحَرَمِ قَدْ أَظَلَّ زَمَانُهُ (دلائل النبوۃ لأبی نعیم، حدیث نمبر 222)۔ یعنی، اے قوم، اس آدمی کا ساتھ دینے میں جلدی کرو قبل اس کے کہ اور لوگ اس کی طرف سبقت کریں۔ خدا کی قسم، اہل کتاب کہہ رہے ہیں کہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader