دعوت کے مصالح
Urdu book, p. 193
By Maulana Wahiduddin Khan
حرم سے ایک نبی ظاہر ہو گا جس کا زمانہ قریب آ گیا ہے۔ مدینہ کے عرب قبائل ، اوس اور خزرج کے ایمان لانے میں پیش قدمی کرنے کی وجہ ان کا یہی ذہنی پس منظر تھا۔ تاہم مکہ کے لوگوں اور بیشتر عرب قبائل کے لیے صداقت کا معیار کعبہ کا اقتدار تھا۔ قدیم عرب میں کعبہ کی حیثیت وہی تھی جو بادشاہی نظام میں ”تاج‘‘ کی ہوتی ہے۔ مزید یہ کہ تاج کے ساتھ صرف سیاسی اقتدار کا تصور وابستہ ہوتا ہے، جب کہ کعبہ کے ساتھ اقتدار کے علاوہ تقدس کی روایات بھی کامل درجہ میں شامل تھیں۔ عام عرب اپنے سادہ ذہن کے تحت یہ سمجھتے تھے کہ جو کعبہ پر قابض ہو جائے وہی صداقت کا حامل ہے۔ بنو عامر کے ذو الجوشن الضبائی بتاتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کہا: يَا ذَا الْجَوْشَنِ، أَلَا تُسْلِمُ فَتَكُونَ مِنْ أَوَّلِ أَهْلِ هَذَا الْأَمْرِ؟، فَقُلْتُ: لَا، قَالَ: لِمَ؟ قُلْتُ: إِنِّي رَأَيْتُ قَوْمَكَ قَدْ وَلِعُوا بِكَ، قَالَ: فَكَيْفَ بَلَغَكَ عَنْ مَصَارِعِهِمْ بِبَدْرٍ؟، قُلْتُ: قَدْ بَلَغَنِي، قَالَ: فَإِنَّا نُهْدِي لَكَ، قُلْتُ: إِنْ تَغْلِبْ عَلَى الْكَعْبَةِ وَتَقْطُنْهَا، قَالَ: لَعَلَّكَ إِنْ عِشْتَ تَرَى ذَلِكَ... قَالَ: فَوَ اللَّهِ إِنِّي بِأَهْلِي بِالْغَوْرِ إِذْ أَقْبَلَ رَاكِبٌ فَقُلْتُ: مَا فَعَلَ النَّاسُ؟ قَالَ: قَدْ وَاللَّهِ غَلَبَ مُحَمَّدٌ عَلَى الْكَعْبَةِ وَقَطَنَهَا، فَقُلْتُ: هَبِلَتْنِي أُمِّي، وَلَوْ أَسْلَمْ يَوْمَئِذٍ ثُمَّ أَسْأَلُهُ الْحِيَرَةَ لَأَقْطَعَنِيهَا (مسند احمد، حدیث نمبر 16633 )۔ یعنی، اے ذوالجوشن تم اسلام کیوں نہیں لاتے کہ تمهارا شمار اولین لوگوں میں ہو جائے ۔ میں نے کہا نہیں۔ آپ نے فرمایا کیوں ۔ میں نے کہا میں دیکھتا ہوں کہ آپ کی قوم آپ کے پیچھے پڑ گئی ہے۔ آپ نے فرمایا بدر میں ان کی شکست کے بارے میں تم نے کیا سنا۔ میں نے کہا ہاں ، مجھے معلوم ہے۔ آپ نے فرمایا ہم کو تو تمہیں ہدایت کی بات بتانی ہے۔ میں نے کہا ، ہاں بشر طیکہ آپ کعبہ کو فتح کر کے اس پر قابض ہو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader