Urdu book · پیغمبرِ انقلاب

پیغمبرِ انقلاب

Urdu book, p. 194

By Maulana Wahiduddin Khan

جائیں، آپ نے فرمایا اگر تم زندہ رہے تو دیکھ لو گے۔۔۔ اس کے بعد ایک روز میں اپنے گھر والوں کے ساتھ اپنے وطن غور میں تھا کہ ایک سوار آیا۔ میں نے پوچھا لوگوں کا کیا ہوا۔ اس نے کہا خدا کی قسم محمد نے کعبہ کو فتح کر لیا اور اس پر قابض ہو گئے۔ میں نے کہا میری ماں مجھے گم کرے، اگر میں نے اسی دن اسلام قبول کر لیا ہوتا اور پھر محمد سے حیرہ مانگتا تو وہ ضرور دے دیتے۔ یہی وجہ ہے کہ جب مکہ فتح ہو گیا تو لوگ جوق در جوق اسلام میں داخل ہو گئے۔ (النصر، 110:2) دعوت کاردعمل آپ نے اپنی دعوتی مہم کا آغاز کیا، تو وہ سارے واقعات پیش آنے شروع ہوئے جو کسی معاشرہ میں نئی آواز بلند ہونے کی صورت میں پیش آتے ہیں۔ کچھ لوگ حیران تھے کہ یہ کیا چیز ہے۔ عبد بن حمید نے اپنی مسند میں نقل کیا ہے کہ قریش کے سرداروں نے ایک بار عتبہ بن ربیعہ کو اپنا نمائندہ بنا کر آپ کے پاس بھیجا۔ اس نے آپ کی تردید میں ایک لمبی تقریر کی، جب وہ کہہ چکا تو آپ نے کہا فرغت، اس نے کہا ہاں۔ آپ نے بسم اللہ الرحمن الرحیم کہا اور حم سجدہ کی ابتدائی 13 آیتیں پڑھ کر اسے سنائیں۔ عتبہ نے سن کر کہا بس بس، اس کے سوا اور کچھ تمہارے پاس نہیں (حَسْبُكَ حَسْبُكَ، مَا عِنْدَكَ غَيْرُ هَذَا؟) آپ نے فرمایا نہیں۔ اس کے بعد روایت کے الفاظ حسب ذیل ہیں: فَرَجَعَ إِلَى قُرَيْشٍ، فَقَالُوا: مَا وَرَاءَكَ؟ قَالَ: مَا تَرَكْتُ شَيْئًا أَرَى أَنَّكُمْ تُكَلِّمُونَهُ بِهِ إِلَّا كَلَّمْتُهُ، قَالُوا: هَلْ أَجَابَكَ؟ قَالَ: نَعَمْ، وَالَّذِي نَصَبَهَا بِنِيَّةٍ، مَا فَهِمْتُ شَيْئًا مِمَّا قَالَ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: أَنْذَرْتُكُمْ صَاعِقَةً مِثْلَ صَاعِقَةِ عَادٍ وَثَمُودَ، قَالُوا: وَيْلَكَ يُكَلِّمُكَ رَجُلٌ بِالْعَرَبِيَّةِ لَا تَدْرِي مَا قَالَ، قَالَ: لَا، وَاللَّهِ مَا فَهِمْتُ شَيْئًا مِمَّا قَالَ غَيْرَ ذِكْرِ الصَّاعِقَةِ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page