دعوت کا ردِّ عمل
Urdu book, p. 195
By Maulana Wahiduddin Khan
(مسند ابویعلی، حدیث نمبر 1818 )۔ یعنی، پھر عقبہ قریش کے پاس آیا۔ انہوں نے پوچھا کیا ہوا۔ عقبہ نے جواب دیا، تم لوگ جو کچھ کہتے ہو سب میں نے کہہ ڈالا۔ انہوں نے پوچھا پھر کیا کوئی جواب دیا۔ عقبہ نے کہا ہاں۔ پھر بولا خدا کی قسم اس نے جو دلیل دی، اس سے میں کچھ نہیں سمجھا، سوا اس کے کہ تم کو عاد وثمود جیسے کڑک کے سے ڈرایا ہے۔ قریش نے کہا تمہارا برابرا ہو ایک شخص تم سے عربی میں بات کر رہا ہے اور تم نہیں سمجھتے کہ اس نے کیا کہا۔ عقبہ نے کہا خدا کی قسم اس نے جو کچھ کہا اس سے میں کڑک کے سوا کچھ نہیں سمجھا۔ کچھ لوگ جو مذہب کے ایک خاص روایتی ڈھانچے سے مانوس ہو چکے تھے، انہیں آپ کی دعوت میں اسلاف کی تحقیر کی بو نظر آئی۔ ابوبعیم نے دلائل النبوۃ میں نیز نسائی اور بغوی وغیرہ نے نقل کیا ہے کہ حضرت ضما د مکہ آئے تا کہ عمرہ کریں۔ ایک روز وہ ایک مجلس میں بیٹھ گئے جس میں ابو جہل، عقبہ بن ربیعہ اور امیہ بن خلف تھے۔ ابو جہل نے کہا: هَذَا الرَّجُلُ الَّذِي فَرَّقَ جَمَاعَتَنَا وَسَفَّهَ أَحْلَامَنَا وَأَضَلَّ مَنْ مَاتَ مِنَّا وَعَابَ آلِهَتَنَا فَقَالَ أُمَيَّةُ: الرَّجُلُ مَجْنُونٌ غَيْرُ شَكٍّ ( دلائل النبوۃ لابی نعیم، حدیث نمبر 187 )۔ یعنی، اس شخص نے ہماری جماعت میں اختلاف ڈال دیا۔ ہم سب کو بیوقوف بتایا۔ ہمارے اسلاف کو گمراہ قرار دیا۔ ہمارے معبودوں کو برا بھلا کہا۔ امیہ بولا اس آدمی کے پاگل ہونے میں کوئی شک نہیں۔ عمروبن مرہ جہنی نے اپنے قبیلہ جہینہ کے لوگوں کو اسلام کی دعوت دی تو ایک شخص نے کہا: يا عمرو بن مرة أمر الله عيشك أتأمرنا برفض آلهتنا وأن نفرق جمعنا وأن نخالف دين آبائنا الشيم العلى إلى ما يدعونا إليه هذا القرشي من أهل تهامة لا حبا ولا كرامه (اے عمرو بن مرہ ! خدا تیری زندگی تلخ کر دے کیا تو ہم کو ہمارے معبودوں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader