دعوت کا ردِّ عمل
Urdu book, p. 196
By Maulana Wahiduddin Khan
کو چھوڑنے کا حکم دیتا ہے اور یہ کہ ہم اپنی جمعیت کو منتشر کردیں، اور اپنے باپ دادا کے دین کی مخالفت کریں جو اخلاق عالیہ کے مالک تھے۔ یہ تہامہ کا رہنے والا قریشی ہمیں کس چیز کی طرف بلاتا ہے اس میں نہ کوئی شرافت ہے نہ کرامت)۔ اس کے بعد اس نے تین شعر پڑھے۔ آخری شعر یہ تھا: ليسفه الأشياخ ممن قدمضى من رام ذلك لا أصاب فلاحا وہ ہمارے گزرے ہوئے اسلاف کو احمق ثابت کرنا چاہتا ہے اور جس کا ایسا ارادہ ہو وہ کبھی فلاح نہیں پا سکتا (تاریخ دمشق لابن عساکر، جلد 46، صفحہ 345)۔ کچھ لوگوں کے لیے حسد مانع ہو گیا۔ کیوں کہ آپ اپنی پیغمبری کا اعلان کر رہے تھے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ میرے پاس حقیقت کا علم ہے اور انسان کے لیے ہمیشہ یہ مشکل ترین امر رہا ہے کہ وہ کسی کے بارے میں یہ اعتراف کرے کہ خدا نے اس کو حقیقت کا وہ علم دیا ہے جو خود اس سے نہ مل سکا۔ بہقی نے مغیرہ بن شعبہ سے نقل کیا ہے کہ ابو جہل بن ہشام نے ایک روز ان سے علیحدگی میں کہا: وَاللَّهِ إِنِّي لَا أَعْلَمُ أَنَّ مَا يَقُولُ حَق، وَلَكِن [يمنعنى] شىء، إنَّ بَنِي قُصَيّ. قَالُوا فِينَا الْحِجَابَةُ. فَقُلْنَا: نَعَمْ . ثُمَّ قَالُوا أَفِينَا السِّقَايَةَ فَقُلْنَا: نَعَمْ . ثُمَّ قَالُوا أَفِينَا النَّدْوَةُ. فَقُلْنَا: نَعَمْ. ثُمَّ قَالُوا: فِينَا اللِّوَاءِ. فَقُلْنَا : نَعَمْ... قَالُوا : مَنَانَبِيُّ ! وَاللَّهِ لَا أَفْعَلُ (السيرة النبوية لابن كثير، جلد 1، صفحہ 507)۔ یعنی، خدا کی قسم میں خوب جانتا ہوں کہ جو کچھ یہ کہتے ہیں، حق ہے مگر مجھے ایمان لانے میں ایک چیز مانع ہے۔ بنی قصی نے کہا کہ کعبہ کی دربانی ہماری ہے۔ ہم نے کہا ہاں ۔ پھر بنی قصی نے کہا حاجیوں کو پانی پلانے کا کام ہمارا ہے۔ ہم نے کہا ہاں ۔ پھر بنی قصی نے کہا کہ دار الندوہ میں ہمارا حق ہے، ہم نے کہا ہاں ۔ پھر انہوں نے کہا جنگ میں جھنڈا اٹھانا ہماری ذمہ داری ہے۔ ہم نے کہا ہاں ۔ اب وہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader