Urdu book · پیغمبرِ انقلاب

دعوت کا ردِّ عمل

Urdu book, p. 197

By Maulana Wahiduddin Khan

کہتے ہیں کہ نبوت ہمارے اندر ہے۔ پس خدا کی قسم میں ہرگز اس کو نہیں مانوں گا۔ کچھ لوگ آپ کے اس لیے مخالف ہو گئے کہ آپ کی دعوت کو مان لینے میں انہیں اپنا اقتصادی خطرہ نظر آتا تھا۔ اسلام سے قبل خانہ کعبہ ایک بہت بڑا بت خانہ تھا جس میں تمام مذاہب کے بت رکھے ہوئے تھے حتیٰ کہ اس میں مسیح اور مریم کی بھی تصویریں تھیں۔ اس طرح کعبہ تمام مذاہب کے لوگوں کی زیارت گاہ بن گیا تھا۔ چار حرام مہینوں کی غرض بھی یہی تھی۔ کیوں کہ اس زمانے میں تمام مذاہب کے لوگ مکہ آتے رہتے تھے۔ اگر بتوں کو خانہ کعبہ سے ہٹا دیا جاتا تو کوئی شخص کعبہ کی زیارت کے لیے نہ آتا اور مکہ کا بازار جو چار مہینوں تک لگا رہتا تھا، بند ہو جاتا۔ اس لیے مکہ کے باشندے آپ کی دعوت کو اپنے لیے خطرہ محسوس کرتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ اگر توحید کا دین فروغ پا گیا تو یہ غیر ذی زرع علاقہ بالکل تباہ ہو جائے گا۔ نیز کعبہ کی تولیت نے قریش کو مختلف قبائل میں سرداری کا مقام دے رکھا تھا۔ ایک مورخ لکھتے ہیں: كانت اموالها وتجارتها تسافر في الشرق والغرب في ظلال معاهدات تجارية بينها و بين اهم و ثنية مثلها كفارس وامم مسيحية كالجشة و كمثل بيزنطة وكانت قريش تتصور ان تاييدها لرسالة محمد انما يعني شيئا واحد اهون ان تتحلل الامم المجاورة لها بل و قبائل العرب نفسها المقيمة على الوثنية من تعهداتها بحماية تجارة قديش وقوافلها واذا حدث ذلك فهذ ايعنى موت قريش تجاريا واقتصاد يا وانتهاء عصر سيادتها على العرب۔ یعنی، قریش کے اموال اور ان کی تجارتیں مشرق و مغرب میں سفر کرتی تھیں۔ یہ سفر تجارتی معاہدوں کے تحت ہوتا تھا جو انہوں نے دوسری قوموں سے کر رکھا تھا۔ مثلاً فارس، حبشہ اور بازنطینی سلطنت۔ قریش کا خیال تھا کہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page