دعوت کا ردِّ عمل
Urdu book, p. 198
By Maulana Wahiduddin Khan
اگر انہوں نے رسالت محمدی کی تائید کی تو اس کا مطلب صرف ایک ہوگا، وہ یہ کہ پڑوسی قومیں اور عرب کے بت پرست قبائل معاہدات ختم کر دیں گے جو انہوں نے قریش کے تجارتی قافلوں کے بارے میں کر رکھے ہیں اور جب ایسا ہوگا تو یہ قریش کی تجارتی موت کے ہم معنی ہوگا اور عرب پر ان کی قیادت ختم ہو جائے گی۔ چنانچہ سورہ واقعہ (82: 56) کی آیت ”وَتَجْعَلُونَ رِزْقَكُمْ أَنَّكُمْ تُكَذِّبُونَ“ کی ایک تفسیر یہ کی گئی ہے کہ تم تکذیب کو اپنی غذا بنا رہے ہو۔ یعنی یہ سمجھ رہے ہو کہ پیغمبر اسلام کی دعوت توحید کا انکار کر کے تم اپنی اقتصادیات اور اموال کو محفوظ رکھ سکو گے۔ آپ کی دعوت کے نتیجہ میں آپ کا وجود ایک سوالیہ نشان بن گیا تھا۔ دیکھنے والا دوسرے شخص سے پوچھتا کیا یہی وہ ہیں (أَهُوَ هُو) مسند ابو علی الموصلی، حدیث نمبر 6830۔ ایک روایت میں ہے: وَيَمْشِي بَيْنَ رِجَالِهِمْ، وَهُمْ يُشِيرُونَ إِلَيْهِ بِالْأَصَابِع (مسند احمد، حدیث نمبر 14456)۔ یعنی، آپ قافلوں کے درمیان چلتے تو لوگ انگلیوں سے آپ کی طرف اشارہ کرتے۔ اب کوئی مکہ آتا تو واپس جا کر اپنے ساتھی کو دوسری باتوں کے ساتھ یہ خبر بھی دیتا کہ مُحَمَّدُ بْنُ عبد الله تَنَبَّأَ، وَ قَدْ تَبِعَهُ ابْنُ أَبِي قُحَافَةَ (دلائل النبوة للبيهقى، صفحه 28)۔ یعنی، محمد بن عبد اللہ نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے اور ابن ابی قحافہ ان کا ساتھ دے رہے ہیں۔ قریش نے آپ کا نام محمد کے بجائے مذمم رکھ دیا (صحیح البخاری، حدیث نمبر 3533)۔ وہ آپ پر اپنے آباء و اجداد کو احمق قرار دینے کا الزام لگاتے (مسند احمد، حدیث نمبر 7036)۔ آپ کے راستہ میں رات کے وقت گندی چیزیں ڈال دیتے ۔ ایک بار آپ نے ان کو دیکھ کر فرمایا: يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ، أَيُّ جِوَارٍ هَذَا ) سیرت ابن هشام، جلد 1، صفحه 416)۔ یعنی، اے قریش کے لوگو! یہ کیسا پڑوس ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader