دعوت کا ردِّ عمل
Urdu book, p. 199
By Maulana Wahiduddin Khan
ابو طالب کی زندگی تک وہ آپ کے خلاف کوئی جارحانہ کارروائی کرنے کی ہمت نہ کر سکے۔ کیونکہ قبائلی نظام کے تحت آپ سے جنگ کرنا پورے قبیلہ بنی ہاشم سے جنگ کرنے کے ہم معنی تھا۔ عمر بن الخطاب جب اسلام سے پہلے ایک بار تلوار لے کر آپ کے قتل کے ارادے سے نکلے تو ایک شخص کا یہ جملہ عمر کے غصہ کو ٹھنڈا کرنے کے لیے کافی تھا: وَكَيْفَ تَأْمَنُ مِنْ بَنِي هَاشِمٍ وَبَنِي زُهْرَةَ وَقَدْ قَتَلْتَ مُحَمَّدًا؟ (دلائل النبوة للبيهقى، جلد 2، صفحہ 219)۔ یعنی، بنو ہاشم اور بنو زہرہ سے کیسے بچ پاؤ گے، جب تم محمد کو قتل کر دو گے۔ جب بھی کوئی شخص آپ کے خلاف جارحانہ ارادہ کرتا تو فوراً یہ سوال اس کے سامنے آ جاتا۔ یہی وجہ ہے کہ مکہ میں جو جارحانہ مظالم ہوئے وہ زیادہ تر غلاموں اور لونڈیوں کے خلاف ہوئے۔ امام احمد اور ابن ماجہ نے حضرت عبداللہ ابن مسعود سے نقل کیا ہے کہ ابتدائی دور میں سات افراد نے مکہ میں اسلام کا اعلان کیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، ابوبکر، عمار، صہیب، بلال اور مقداد: فَأَمَّا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَنَعَهُ اللَّهُ بِعَمِّهِ أَبِي طَالِبٍ، وَأَمَّا أَبُو بَكْرٍ فَمَنَعَهُ اللَّهُ بِقَوْمِهِ، وَأَمَّا سَائِرُهُمْ فَأَخَذَهُمُ الْمُشْرِكُونَ، وَأَلْبَسُوهُمْ أَدْرَاعَ الْحَدِيدِ، وَصَهَرُوهُمْ فِي الشَّمْسِ (سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 150؛ مسند احمد، حدیث نمبر 3832)۔ یعنی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ نے ان کے چچا کے ذریعہ محفوظ رکھا۔ حضرت ابو بکر کی حفاظت ان کی قوم کے ذریعہ کرائی۔ بقیہ مسلمانوں کو مشرکین نے پکڑا۔ ان کو لوہے کی زرہیں پہنائیں اور سخت دھوپ میں انہیں تپایا۔ امام بیہقی نے حضرت عبداللہ بن جعفر سے روایت کیا ہے کہ جب بنی ہاشم کے سردار ابو طالب کی وفات ہو گئی تو قریش کے کسی بدتمیز شخص نے آپ کے اوپر مٹی ڈال دی۔ آپ گھر واپس آئے تو آپ کی ایک لڑکی نے مٹی جھاڑی۔ اس وقت آپ نے فرمایا: مجھے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader