Urdu book · پیغمبرِ انقلاب

نبوتِ محمدی کا ظہور

Urdu book, p. 20

By Maulana Wahiduddin Khan

محبت کرنے لگتا۔ مگر چالیس سال کی عمر میں جب آپ نے دعوت نبوت کا آغاز کیا تو لوگوں کو آپ کا دعویٰ اتنا حقیر معلوم ہوا کہ انہوں نے کہا: ھذا ابن أبي كبشة يكلم من السماء (منار القاری، شرح مختصر صحیح البخاری، جلد 1، صفحہ 66)۔ اس کا مطلب تھا: دیکھو یہ فلاں دیہاتی کا لڑکا، وہ سمجھتا ہے کہ آسمان سے اس کو وحی آتی ہے۔ آپ کی دعوتی جدوجہد کی کل مدت صرف 23 سال ہے۔ مگر اس انتہائی مختصر مدت میں عرب کے قبائل میں آپ نے ایسا انقلاب برپا کر دیا جس کی کوئی دوسری مثال انسانی تاریخ میں نہیں ملتی۔ اس انقلاب نے سو سال سے بھی کم عرصہ میں دنیا کی دو بڑی شہنشاہیتوں، ساسانی سلطنت اور بازنطینی سلطنت کو زیر کر لیا اور ایک طرف عراق و ایران سے لے کر بخاراتک، دوسری طرف شام و فلسطین سے لے کر مصر اور پورے شمالی افریقہ تک کو فتح کر لیا۔ پھر یہ سیلاب مغربی سمت بڑھا اور 711 ء میں جبرالٹر (Gibraltar) سے گزر کر اسپین اور پرتگال میں داخل ہو گیا۔ مغربی یورپ میں قافلہ اسلام کی پیش قدمی 732 ء میں شاہ فرانس چارلس (Charles Martel) نے فرانس میں ٹورز (Tours) کے مقام پر روک دی۔ تاہم دو صدیوں تک یورپ کی صلیبی جنگوں اور اس کے بعد تاتاریوں کے بے پناہ حملوں کے باوجود پندرہویں صدی تک اس کو کوئی حقیقی نقصان نہیں پہنچا۔ باوجود اس کے کہ انہوں نے اپنے اندرونی اختلاف کی وجہ سے اسپین کو کھو دیا۔ اس کے بعد اسلام کی اندرونی طاقت نے ترکوں اور مغلوں کو کھڑا کیا۔ ترکوں نے 1453 میں قسطنطنیہ کو فتح کیا اور مشرقی یورپ میں یوگوسلاویہ تک پہنچ گئے۔ ویانا کے سامنے 1683 تک ایک ترک فوج موجود تھی۔ سولھویں صدی میں مغلوں نے برصغیر ہند اور افغانستان کے علاقہ میں اسلام کا اقتدار قائم کیا۔ تیرہ صدیوں کے بعد اس توسیع کا نتیجہ یہ ہے کہ آج دنیا کے تقریباً تمام حصوں میں مسلمان موجود ہیں۔ ایشیا اور افریقہ سے لے کر یورپ تک تقریباً چار درجن ممالک کا ایک مسلم علاقہ بن چکا ہے۔ موتمر عالم اسلامی کے شائع کردہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page