Urdu book · پیغمبرِ انقلاب

دعوت کا ردِّ عمل

Urdu book, p. 200

By Maulana Wahiduddin Khan

قریش سے اب تک کسی مکروہ چیز کا سابقہ نہیں پڑا تھا۔ ابو طالب کی وفات ہو گئی تو انہوں نے اس قسم کی حرکتیں شروع کر دیں۔ حضرت ابو ہریرہ کی ایک روایت میں ہے : لَمَّا مَاتَ أَبُو طَالِبٍ تَجَهَّمُوا بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا عَمَّ مَا أَسْرَعَ مَا وَجَدْتُ فَقَدَكَ (حليۃ الاولیاء، جلد 8، صفحہ 308)۔ یعنی، ابو طالب کی وفات ہو گئی تو قریشِ مکہ نے آپ کے ساتھ نہایت سختی کا برتاؤ کیا، آپ نے فرمایا: چچا، آپ کے نہ ہونے کا احساس مجھے کتنی جلد ہو گیا۔ ابو طالب کی وفات کے بعد قریش میں آپ کے قتل کے مشورے شروع ہو گئے۔ ابو جہل کا آپ کے سر میں ابو جھڈالنا اور عقبہ بن معیط کا آپ کی گردن میں چادر ڈال کر کھینچنا اسی دور کے واقعات ہیں جب کہ گلا گھونٹ کر آپ کو مار ڈالنے کی کوشش کی گئی جو کامیاب نہ ہو سکی۔ ابو طالب کی وفات کے بعد بظاہر آپ کے خلاف جارحانہ کارروائی کے لیے راستہ صاف ہو گیا تھا تاہم ایک قسم کی جھجک اس لیے باقی تھی کہ یہ عرب کی تاریخ میں اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ تھا۔ اس کے علاوہ خود مشرکین میں اب بھی کچھ ایسے لوگ موجود تھے جو ضمیر کی آواز کے تحت آپ کی حمایت کرتے تھے۔ مثلاً ابو جہل نے جب پہلی بار آپ کے سر اور گردن میں ابو جھڈال کر آپ کا گلا گھوٹنا چاہا تو ابو البختری کو خبر ہوئی، وہ کوڑالے کر خانہ کعبہ میں آیا، جہاں ابو جہل فاتحانہ انداز سے اپنے ساتھیوں میں بیٹھا ہوا تھا۔ تحقیق کے بعد جب واقعہ صحیح نکلا تو اس نے اسی وقت ابو جہل کے سر پر اتنے زور سے کوڑا مارا کہ وہ چلا اٹھا۔ مذاہب کی تاریخ بتاتی ہے کہ شرک اپنے خلاف تنقید سننے کے لیے ہمیشہ بے حد حساس رہا ہے۔ پھر قدیم زمانہ میں چونکہ اجتماعی نظام کی بنیاد بھی شرک ہی پر قائم ہوتی تھی اس لیے اس شدت کے حق میں سیاسی اسباب بھی جمع ہو جاتے تھے۔ چنانچہ مکہ کے ماحول میں توحید کی دعوت آپ کے لیے انتہائی صبر آزما ثابت ہوئی۔ ابتدائی تین سال تک چند آدمیوں کے سوا کوئی آپ پر ایمان نہ لاسکا۔ دو مربع کلومیٹر میں آباد مکہ میں جس طرح درخت

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page