دعوت کا ردِّ عمل
Urdu book, p. 201
By Maulana Wahiduddin Khan
کا کوئی سایہ نہ تھا، اسی طرح وہ آپ کے ساتھیوں اور طرف داروں سے بھی خالی تھا۔ بستی میں صرف چار آدمی تھے جو آپ کے قریب ہو سکتے تھے : خدیجہ، علی، زید اور ابو بکر۔ اگر حضرت ابو بکر کی بچی عائشہ کو بھی شامل کر لیا جائے ، جو گویا پہلی پیدائشی مسلمان تھیں ، تو آپ کے حامیوں کی تعداد پانچ ہو جاتی ہے۔ تین سال تک یہی سلسلہ جاری رہا ، اس وقت یہ حال تھا کہ آپ گھر سے باہر نکلتے تو دیوانوں کی طرح آپ کا استقبال کیا جاتا۔ ایک روز ابو جہل کی تحریک سے ایک جماعت آپ کو گالیاں دے رہی تھی اور آپ کو برا بھلا کہہ رہی تھی کہ ایک شخص ادھر سے گزرا ۔ مکہ کے ایک معزز شخص کے خلاف یہ سلوک اس کو نا قابل برداشت معلوم ہوا۔ وہ آپ کے چچا حمزہ کے یہاں گیا’’ آپ کی غیرت کو کیا ہوا ‘‘ اس نے کہا ’’لوگ آپ کے بھتیجے کو ذلیل کر رہے ہیں اور آپ ان کی مدد نہیں کرتے‘‘ حمزہ بن عبد المطلب کی عرب غیرت جوش میں آئی، اسی وقت ابو جہل کے یہاں پہنچے اور اپنی لوہے کی کمان اس کے سر پر دے ماری اور کہا کہ ’’آج سے میں بھی محمد کا دین قبول کرتا ہوں ، تم کو جو کرنا ہو کرو‘‘ (دِيْنِي دِينُ مُحَمَّدٍ ، أَشْهَدُ أَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ ، فَوَ اللَّهِ لَا أَنْثَنِي عَنْ ذَلِكَ ، فَامْنَعُونِي مِنْ ذَلِكَ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ) المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر 2926۔ حمزہ عرب کے مشہور پہلوان تھے ۔ اب کچھ لوگوں کو حوصلہ ہوا اور مسلمانوں کی تعداد 30 تک پہنچ گئی۔ اس وقت مکہ میں دو انتہائی با اثر افراد تھے۔ ایک عمر بن الخطاب ، دوسرے ابو جہل بن ہشام ۔ آپ نے دعا فرمائی کہ خدایا ، ان میں سے کسی ایک کے ذریعہ اسلام کو طاقت پہنچا (اَللّهُمَّ أَعِزَّ الْإِسْلَامَ بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَوْ بِأَبِي جَهْلِ بْنِ هِشَامٍ) المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر 10314۔ آپ کی یہ پکار اول الذکر کے حق میں قبول ہوئی ۔ نبوت کے چھٹے سال حضرت عمر کا اسلام بہت سے دوسرے لوگوں کو اسلام کی طرف لانے کا سبب بنا اور اب مسلمانوں کی تعداد چالیس ہوگئی ۔ یہی وہ زمانہ ہے جب کہ مسلمان ابن ارقم کے مکان

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader