دعوت کا ردِّ عمل
Urdu book, p. 202
By Maulana Wahiduddin Khan
میں اپنا پوشیدہ مرکز بنائے ہوئے تھے۔ مستدرک الحاکم میں دار ارقم میں جمع ہونے والے مسلمانوں کی تعداد 39 بتائی گئی ہے (مستدرک الحاکم، حدیث نمبر 6130)۔ مگر جو لوگ مروجہ نظام کے زیر سایہ عمل کر رہے ہوں، ان کی طاقت ہمیشہ زیادہ ہوتی ہے۔ چنانچہ ایک عارضی وقفہ کے بعد مظالم کا سلسلہ پھر شروع ہو گیا۔ آپ کو ہر قسم کی تکلیف دینے کے باوجود وہ آپ کو قتل نہ کر سکتے تھے۔ کیونکہ قبائلی رواج کے مطابق کسی قبیلہ کے ایک فرد کو قتل کرنا پورے قبیلہ سے جنگ کرنے کے ہم معنی تھا۔ یہی مسئلہ تھا جس کی بنا پر حضرت شعیب کی قوم نے ان سے کہا کہ اگر تمہارے قبیلہ کا خوف نہ ہوتا تو ہم تمہیں پتھر مار مار کر ہلاک کر دیتے (ھود، 11:91)۔ قریش نے بنی ہاشم کے سردار اور آپ کے چچا ابو طالب بن عبد المطلب سے مطالبہ کیا کہ وہ آپ کو قبیلہ سے خارج کر دیں تا کہ قریش کے لیے آپ کو قتل کرنا ممکن ہو جائے ۔ مگر ابو طالب کی غیرت اس کے لیے تیار نہ ہوئی۔ ایک بار قریش کی شکایت پر جب ابو طالب نے آپ سے کہا کہ تم ان کے بتوں پر تنقید کرنا چھوڑ دو تو آپ کو اندیشہ ہوا کہ وہ آپ کو قریش کے حوالے کر دیں گے (اَنَّہُ قَدْ بَدَا لِعَمِّہِ فِیْہِ بَدَاءً اَنَّہُ خَاذِلُہُ وَ مُسْلِمُہُ) ۔ مگر ابو طالب نے فوراً یہ کہہ کر آپ کو مطمئن کر دیا : فَوَ اللہِ لَا اُسْلِمُکَ لِشَیْءٍ اَبَدًا (اللہ کی قسم، میں تمھیں کسی چیز کے بدلے کبھی بھی ان کے حوالے نہیں کروں گا) سیرت ابن ہشام، جلد 2، صفحہ 266۔ اب قریش نے ایک اجتماعی معاہدہ کر کے بنی ہاشم کے بائیکاٹ کا اعلان کر دیا ۔ یہ نبوت کا ساتواں سال تھا، اس کے بعد ابو طالب آپ کو اور آپ کے خاندان کو لے کر مکہ کے باہر نکل گئے اور ایک گھاٹی میں مقیم ہوئے جس کو شعب ابی طالب کہا جاتا ہے۔ یہ ایک خشک پہاڑی درہ تھا جس میں بعض جنگی درختوں کے سوا اور کوئی چیز نہ تھی۔ آپ تین سال تک اس حال میں رہے کہ درخت کی پتیاں اور جڑیں کھا کر گزارہ کرتے ، اس سے مستثنیٰ صرف وہ چار حرام مہینے تھے جب کہ آپ کے خاندان کے لوگ مکہ جاتے اور قربانی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader