پیغمبرِ انقلاب
Urdu book, p. 203
By Maulana Wahiduddin Khan
کے جانوروں کا گوشت لے آتے اور اس کو سکھا کر رکھ لیتے جو عرصہ تک غذا کا کام دیتا تھا۔ تین سال بعد نبوت کے دسویں برس معاہدہ ختم ہو گیا مگر اس کی شدت ابو طالب کے لیے جان لیوا ثابت ہوئی۔ ابو طالب کے انتقال (620ء) کے بعد قبیلہ کے سب سے بزرگ فرد کی حیثیت سے عبد العزیٰ (ابو لہب) بنی ہاشم کا سردار بن گیا۔ اب دشمن خود حج کی کرسی پر تھا۔ اس نے آپ کو قبیلہ سے خارج کیے جانے کا اعلان کر دیا۔ قبیلہ سے اخراج عرب کی صحرائی زندگی میں کسی شخص کا قبیلہ سے خارج کر دیا جانا ایسا ہی تھا جیسے کسی کو سمندر میں دھکیل دیا جائے۔ کیوں کہ قبائلی نظام میں، جب کہ کوئی ذمہ دار ملکی حکومت نہیں ہوتی تھی، کوئی شخص کسی قبیلہ کی حمایت ہی میں زندگی گزار سکتا تھا۔ منیٰ کی قیام گاہ ہوں میں ایک بار آپ نے ایک قبیلہ کے سامنے اپنی دعوت پیش کی۔ قبیلہ نے ماننے سے انکار کیا۔ تاہم ان میں سے ایک شخص میسرہ بن مسروق عبسی کی باتوں سے اندازہ ہوا کہ انہوں نے آپ کی دعوت کا اثر قبول کیا ہے: وَ طَمِعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه و سلم فِي مَيْسَرَةَ، فَكَلَّمَهُ، فَقَالَ مَيْسَرَةُ: مَا أَحْسَنَ كَلَامَكَ وَأَنْوَرَهُ، وَلَكِنَّ قَوْمِي يُخَالِفُونَنِي، وَإِنَّمَا الرَّجُلُ بِقَوْمِهِ (البدایہ والنہایہ، جلد 3، صفحہ 170)۔ یعنی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو میسرہ سے امید ہوئی۔ آپ نے ان سے بات کی، میسرہ نے جواب دیا، آپ کی بات کتنی اچھی اور نورانیت سے بھری ہوئی ہے۔ مگر میری قوم مخالف ہے اور آدمی اپنی قوم ہی کے ساتھ رہ سکتا ہے۔ ان حالات میں قبیلہ سے اخراج آپ کے لیے انتہائی سنگین واقعہ تھا۔ اب اپنے وطن میں آپ کے لیے کوئی سایہ نہ تھا۔ آپ کے لیے واحد صورت یہ تھی کہ اپنے لیے کوئی دوسرا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader