Urdu book · پیغمبرِ انقلاب

قبیلہ سے اخراج

Urdu book, p. 204

By Maulana Wahiduddin Khan

حمایتی قبیلہ تلاش کریں۔ مکہ سے نکل کر طائف جانا اس سلسلے میں آپ کی پہلی کوشش تھی۔ حضرت عائشہ سے اس سفر کی رو داد بیان کرتے ہوئے ایک بار آپ نے کہا: اِذْ عَرَضْتُ نَفْسِی عَلَی ابْنِ عَبْدِ یَالِیلَ بْنِ عَبْدِ کُلَالٍ ( صحیح البخاری، حدیث نمبر 3231)۔ یعنی، جب میں نے اپنے آپ کو ابن عبد یالیل کے سامنے پیش کیا۔ عروہ بن زبیر بیان کرتے ہیں: وَمَاتَ أَبُو طَالِبٍ وَازْدَادَ مِنَ الْبَلَاءِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شِدَّةً فَعَمَدَ إِلَى ثَقِيفٍ يَرْجُو أَنْ يُؤْوُوهُ وَيَنْصُرُوهُ (دلائل النبوة لابی نعیم، حدیث نمبر 221)۔ یعنی، ابوطالب کی وفات کے بعد آپ کو بہت زیادہ تکلیفیں پہنچائی جانے لگیں۔ اس وقت آپ نے قبیلہ ثقیف ( طائف) کا رخ کیا۔ اس امید میں کہ وہ آپ کو پناہ دیں گے اور آپ کی مدد کریں گے۔ مگر وہاں کے لوگوں نے آپ کے ساتھ جو وحشیانہ سلوک کیا، اس کی ایک جھلک اس دعا میں نظر آتی ہے جو طائف سے واپسی کے وقت آپ کے لہولہان چہرہ سے نکلی تھی: اللَّهُمَّ إِلَيْكَ أَشْكُو ضَعْفَ قُوَّتِي، وَقِلَّةَ حِيلَتِي، وَهَوَانِي عَلَى النَّاسِ، يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ ( سیرت ابن ہشام، جلد 1، صفحہ 420)۔ یعنی، خدا یا میں تجھ سے شکایت کرتا ہوں اپنی قوت کی کمی کی اور اپنے وسائل کی قلت کی اور لوگوں کی نظر میں حقیر ہونے کی۔ اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے۔ طائف سے لوٹتے ہوئے آپ نے اہل طائف سے کہا: تم نے میرے ساتھ جو سلوک کیا ہے اس کی خبر مکہ تک نہ پہنچے ورنہ انہیں مزید جسارت ہو جائے گی: إِذَا فَعَلْتُمْ مَا فَعَلْتُمْ فَأكْتُمْوا عَنِّي، وَكَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُبْلِغَ قَوْمَهُ عَنْهُ، فَيُدِّئْرُهُمْ ذَلِكَ عَلَيْهِ (سیرت ابن ہشام، جلد 1، صفحہ 419)۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page