قبیلہ سے اخراج
Urdu book, p. 205
By Maulana Wahiduddin Khan
طائف سے واپس ہو کر دوبارہ آپ مکہ کے باہر مقیم ہوئے اور شہر کے مختلف لوگوں کے پاس پیغام بھیجا کہ کوئی آپ کو اپنی شخصی حمایت میں لے لے تو مکہ میں آ کر رہ سکیں۔ بالآخر مطعم بن عدی نے آپ کی حمایت قبول کی اور اس کے لڑکوں کی تلوار کے سایہ میں آپ دوبارہ مکہ میں داخل ہوئے۔ اب آپ نے یہ منصوبہ بنایا کہ مختلف میلوں اور بازاروں میں اطراف کے جو قبائل مکہ آتے ہیں، ان میں جائیں اور ان کو آمادہ کریں کہ وہ آپ کو اپنی حمایت میں لے لیں۔ آپ نے اپنے چچا عباس سے کہا: لَا أَرَى لِي عِنْدَكَ وَلَا عِنْدَ أَخِيكَ مَنَعَةً، فَهَلْ أَنْتَ مخرجى إِلَى السُّوقِ غَدًا حَتَّى نقر فِي مَنَازِلِ قَبَائِلِ النَّاسِ (البدایہ والنہایہ، جلد 2، صفحہ 159)۔ یعنی، تمہارے اور تمہارے اقربا کے یہاں میرے لیے حفاظت نہیں۔ کیا آپ کل مجھے بازار لے چلیں گے تا کہ ہم لوگوں کی قیام گاہوں پر چل کر ٹھہریں اور ان سے بات کریں۔ آپ ایک ایک قبیلہ کی قیام گاہ پر جاتے اور اس سے پوچھتے کہ تم لوگوں کے یہاں حفاظت کا کیا انتظام ہے (کَيْفَ المنعة فِيكُمْ) ۔ ان کے سامنے اپنے آپ کو پیش کرتے (يعرض عليهم نفسه) ۲۔ ان سے کہتے کہ میرے قبیلہ نے مجھ کو نکال دیا ہے (كَذَّبُنِي وَطَرَدُنِي ) ۳- تم مجھ کو اپنی حفاظت میں لے لو تا کہ میں تبلیغ رسالت کا فریضہ انجام دے سکوں (يَمْنَعُونِي وَيُؤْوُونِي حَتَّى أُبْلِغَ عَنِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مَا أُرْسِلْنِي بِه) ۴۔ مورخین نے اس (1) السیرة النبویة لابن کثیر، جلد 2، صفحہ 161 (۲) سیرت ابن اسحاق، صفحہ 232 (۳) السیرة النبویة لابن کثیر، جلد 2، صفحہ 161 (۴) دلائل النبوة لابی نعیم، حدیث نمبر 226

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader