قبیلہ سے اخراج
Urdu book, p. 206
By Maulana Wahiduddin Khan
سلسلے میں پندرہ قبیلوں کے نام لکھے ہیں جن سے آپ فرداً فرداً ملے۔ مگر قبائل کو معلوم تھا کہ قریش کے نکالے ہوئے ایک شخص کو پناہ دینا کس قدر خطر ناک ہے۔ چنانچہ ہر ایک نے آپ کو اپنی پناہ میں لینے سے انکار کر دیا۔ ایک قبیلہ کے کچھ لوگوں میں آپ کی بابت نرمی پیدا ہوئی تو اس کے ایک بزرگ نے کہا: أَخْرَجْتُمُهُ عَشِيرَتُهُ وَتُؤُوُونَهُ أَنْتُمْ؟ تَحَمَّلُونَ حَرْبَ الْعَرَبِ قَاطِبَةً (ابو نعیم فی دلائل النبوة، حدیث نمبر 222)۔ یعنی، اس کے قبیلہ نے اس کو نکال دیا ہے اور تم اس کی پشت پناہی کرنا چاہتے ہو کیا تم تمام عرب سے لڑائی مول لینا چاہتے ہو۔ وہ جانتے تھے کہ کسی قبیلہ سے نکالے ہوئے شخص کو حفاظت میں لینا اس قبیلہ سے اعلان جنگ کے ہم معنی ہے اور جب کہ یہ قبیلہ قریش ہو جس کو پورے ملک پر سیادت حاصل ہو تو مسئلہ اور بھی زیادہ سنگین ہو جاتا ہے۔ عرب روایات میں یہ بات انتہائی معیوب تھی کہ کوئی شخص کسی شخص سے پناہ طلب کرے اور وہ اس کو پناہ نہ دے۔ عرب تاریخ میں یہ پہلا نمایاں واقعہ تھا کہ آپ کئی سال تک مختلف قبائل کے درمیان پھرتے رہے، مگر کوئی آپ کو پناہ دینے کے لیے تیار نہ ہوا۔ نہ طائف کے لوگ نہ دیگر عرب قبائل۔ اس کی وجہ آپ کے معاملہ کی مخصوص نوعیت تھی۔ آپ کو ’’طرد‘‘ کرنے والے قریش تھے جو سارے عرب کے قائد تھے۔ قریش کے نکالے ہوئے ایک شخص کو پناہ دینے کا مطلب سارے عرب سے جنگ مول لینے کے ہم معنی تھا۔ یہی پس منظر تھا جس کی بنا پر انصار سے بیعت کے وقت ابو لہثیم بن التیہان نے اپنے ساتھیوں سے کہا: فَاعْلَمُوا أَنَّكُمْ إِنْ تُخْرِجُوهُ بِرَتُكُمْ الْعَرَبَ عَنْ قَوْسٍ وَاحِدَةٍ (المجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر 566)۔ یعنی، جان لو، اگر تم ان کو اپنے یہاں لے گئے تو سارے عرب مل کر تم کو ایک تیر سے نشانہ بنالیں گے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader