قبیلہ سے اخراج
Urdu book, p. 207
By Maulana Wahiduddin Khan
اس کے علاوہ ایک اور وجہ بھی تھی وہ قبائل جو سرحدی علاقوں میں آباد تھے، ان کے پڑوس کی غیر عرب حکومتوں سے معاہدات تھے، وہ ڈرتے تھے کہ آپ جیسی ایک متنازعہ شخصیت کو اپنے ساتھ لے جائیں تو ان حکومتوں سے کوئی جھگڑا نہ شروع ہو جائے۔ البدایہ و النہایہ میں ہے کہ آپ منیٰ کے میلہ میں گئے وہاں بنو شیبان بن ثعلبہ کے سرداروں سے آپ کی گفتگو ہوئی۔ انہوں نے آپ کے پیغام کی تحسین کی۔ مگر آخر میں ہانی بن قبیصہ نے کہا کہ ہم کسریٰ (شاہ فارس) کی مملکت کی سرحد پر بسے ہوئے ہیں اور شاہان فارس سے ہمارے معاہدے ہیں:: وَلَعَلَّ هَذَا الْأَمْرَ الَّذِي تَدْعُونَا إِلَيْهِ مِمَّا تَكْرَهُهُ الْمُلُوكِ (البدایہ والنہایہ، جلد 3، صفحہ 144)۔ یعنی، اور جس چیز کی طرف آپ ہمیں بلاتے ہیں شاید وہ بادشاہوں کی ناراضگی کا باعث ہو۔ اس زمانہ میں آپ پر جو بے بسی کا عالم تھا اس کا اندازہ ان الفاظ سے ہوتا ہے جو اس سلسلہ میں روایات میں آئے ہیں۔ ایک بار آپ ایک قبیلہ میں گئے جس کو بنو عبد اللہ کہا جاتا تھا: فَدَعَاهُمْ إِلَى اللَّهِ وَعَرَضَ عَلَيْهِمْ نَفْسَهُ، حَتَّى إِنَّهُ لَيَقُولُ لَهُمْ: يَا بَنِي عَبْدِ اللَّهِ، إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ أَحْسَنَ اسْمَ أَبِيكُمْ، فَلَمْ يَقْبَلُوا مِنْهُ مَا عَرَضَ عَلَيْهِمْ (سیرت ابن ہشام، جلد 1، صفحہ 424)۔ یعنی، ان کو آپ نے خدا کی طرف بلایا اور اپنے آپ کو ان کے سامنے پیش کیا کہ وہ آپ کو اپنی حمایت میں لے لیں ۔ یہاں تک کہ آپ نے فرمایا اے بنو عبد اللہ! اللہ نے تمہارا نام کتنا اچھا رکھا ہے، پھر بھی انہوں نے وہ چیز قبول نہ کی جو آپ نے ان کے سامنے پیش کی تھی۔ اس طرح مکی زندگی کے آخری تقریباً تین سال مختلف قبائل کے درمیان اپنا حمایتی تلاش کرنے میں گزر گئے۔ مگر ہر قسم کی جدوجہد کے باوجود کوئی قبیلہ بھی آپ کی حمایت کے لیے تیار

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader