Urdu book · پیغمبرِ انقلاب

قبیلہ سے اخراج

Urdu book, p. 208

By Maulana Wahiduddin Khan

نہ ہوا۔ یہاں تک کہ بعض قبائل کہہ اٹھے، کیا ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ آپ ہم سے مایوس ہو جائیں (مَا آن لَكَ أَنْ تُيَأَّسَ مِنَّا) ۔ بالآخر اللہ تعالیٰ نے یثرب (مدینہ) کے قبائل اوس اور خزرج کو اس کی توفیق عطا فرمائی (دلائل النبوة لابی نعیم الاصبهانی، حدیث نمبر 224) ۔ اوس اور خزرج کی اس آمادگی کا ایک خاص نفسیاتی پس منظر بھی تھا۔ یہ قبائل یہود کے پڑوس میں بسے ہوئے تھے۔ خیبر کے یہودی اس علاقہ کی بہترین زمینوں پر قابض تھے، تجارتیں بھی انہیں کے قبضہ میں تھیں۔ چنانچہ یثرب کے عربوں (اوس وخزرج) کی معاشیات کا بڑا ذریعہ خیبر کے یہودیوں کے یہاں مزدوری کرنا تھا۔ ہجرت کے بعد جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب اپنے ہاتھوں سے مسجد نبوی کی تعمیر کر رہے تھے تو آپ کی زبان پر یہ شعر تھا: هَذَا الْحِمَالُ لَا حِمَالَ خَيْبَرُ هَذَا أَبَرُّ رَبُّنَا وَأَطْهَرُ یعنی، یہ مزدوری ہے مگر خیبر کی مزدوری کی طرح نہیں۔ ہمارے رب کی قسم یہ اس سے بہت بہتر اور بھلی ہے (صحیح البخاری، حدیث نمبر 3906) ۔ یہودیوں کے اقتصادی غلبہ اور استحصال کی وجہ سے ان میں اور اوس وخزرج میں اکثر لڑائیاں ہوتی رہتی تھیں۔ چنانچہ ان سے یہودی کہا کرتے تھے کہ ہماری کتابوں کے مطابق جلد ہی عرب میں ایک نبی ظاہر ہونے والا ہے۔ وہ جب آئے گا تو ہم اس کے ساتھ ہو کر تم سے لڑیں گے اور تم کو ہمیشہ کے لیے فنا کر دیں گے۔ یہودیوں کے اسی قول کی طرف قرآن کے ان الفاظ میں اشارہ ہے: وَكَانُوا مِنْ قَبْلُ يَسْتَفْتِحُونَ عَلَى الَّذِينَ كَفَرُوا (2:89) ۔ یعنی، اور وہ پہلے سے منکروں پر فتح مانگا کرتے تھے۔ اوس وخزرج کے لوگوں نے آپ کی دعوت سنی تو انہوں نے کہا "بخدا یہی وہ نبی ہے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page