Urdu book · پیغمبرِ انقلاب

قبیلہ سے اخراج

Urdu book, p. 209

By Maulana Wahiduddin Khan

جس کے بارے میں یہود ہم سے کہا کرتے تھے۔ قبل اس کے کہ یہود سبقت کریں ہمیں آپ پر ایمان لا کر آپ کے گروہ میں شامل ہو جانا چاہیے۔‘‘ اس مخصوص پس منظر کے علاوہ دوسرے تاریخی اور سماجی اسباب بھی تھے جس کی وجہ سے اوس و خزرج کے لیے آپ کی بات کو سمجھنا اور اس کو مان لینا دیگر عرب قبائل کے مقابلہ میں آسان ہو گیا اور انہوں نے آپ کے ہاتھ پر بیعت کر لی۔ اب وہ وقت آ گیا تھا جس کے آپ برسوں سے منتظر تھے۔ آپ کو ایک ایسی جگہ مل گئی تھی جہاں قبائلی حمایت کے تحت اپنی جد و جہد کو مؤثر شکل میں جاری رکھ سکیں اور مکہ اور اطراف مکہ کے مسلمانوں کو ایک مقام پر جمع کر کے اس کو اسلامی مرکز بنا دیں۔ اہل یثرب کا بڑی تعداد میں اسلام لانا اس بات کا امکان پیدا کر رہا تھا کہ اسلام کی متفرق طاقتوں کو ایک مرکز پر اکٹھا کر دیا جائے اور پھر دعوت حق کی جد و جہد کو زیادہ مؤثر شکل میں جاری رکھا جا سکے۔ چنانچہ اوس و خزرج نے بیعت کر لی تو تاریخ میں آتا ہے کہ: قَالَ فَلَمْ يَلْبَثْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَّا يَسِيرًا حَتَّى خَرَجَ إِلَى أصحابه فقال لهم: احمدوا الله كثيرا فقد ظفرت الْيَوْمَ أَبْنَاءُ رَبِيعَةَ بِأَهْلِ فَارِسَ (البدایہ والنہایہ، جلد 3، صفحہ 145)۔ یعنی، آپ فورا اپنے اصحاب کی طرف لوٹے اور ان سے کہا۔ خدا کا شکر کرو، اللہ نے آج کے دن ربیعہ کی اولاد کو اہل فارس پر غلبہ دے دیا۔ آپ نے ہجرت کی تیاری شروع کردی۔ آپ کے انتہائی اخفا کے باوجو د قریش کو بھی خبریں مل رہی تھیں۔ حضرت عروہ نے بیان کیا ہے: ثُمَّ إِنَّ مُشْرِكِي قُرَيْشٍ أَجْمَعُوا أَمْرَهُمْ وَمَكْرَهُمْ حِينَ ظَنُّوا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَارِجُ ، وَعَلِمُوا أَنَّ اللَّهَ قَدْ جَعَلَ لَهُ بِالْمَدِينَةِ مَأْوَى

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page