نبوتِ محمدی کا ظہور
Urdu book, p. 21
By Maulana Wahiduddin Khan
عالم مسلم گزٹیٹر (World Muslim Gazetteer 1975) کے مطابق آج دنیا بھر میں اہل اسلام کی تعداد 90 کروڑ ہے۔ یہ سب جو ہوا، اسی 23 سالہ عمل کا نتیجہ تھا جو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی رہنمائی میں عرب میں انجام دیا گیا تھا۔ 23 سال کی مدت میں ایک ایسا انقلاب آنا جو نہ صرف تاریخ انسانی میں دائمی طور پر ثبت ہو جائے بلکہ خود اپنی ایک مستقل تاریخ پیدا کرے، کسی انسان کے بس کی چیز نہیں۔ یہ ایک خدائی معاملہ تھا اور اسی نے اس کو انجام دیا۔ بدر کی فتح کے بعد جب مسلمان واپس ہوئے تو روحاء کے مقام پر کچھ لوگ ملے جنہوں نے ان کو فتح کی مبارک باد دی۔ سلمہ بن سلامہ نے جواب دیا: تم لوگ کس چیز کی مبارک باد دے رہے ہو۔ خدا کی قسم یہ تو گویا بندھے ہوئے اونٹ تھے جن کو ہم نے ذبح کر دیا: كَالْبُدْنِ الْمُعَقَّلَةِ فَنَحَرْنَاهَا (سیرۃ ابن ہشام، جلد 1، صفحہ 644)۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خصوصی اہتمام سے پیشگی اس کے اسباب فراہم کر دیے تھے۔ عرب کے خشک جغرافیہ میں ایک ایسی قوم جمع کر دی گئی جس میں صحرائی زندگی کے نتیجہ میں کردار کی صلابت غیر معمولی حد تک پائی جاتی تھی۔ وہ اقرار اور انکار کے درمیان کسی تیسری چیز کو نہ جانتے تھے، ان کے اندر وہ تمام فطری خصائص پوری طرح محفوظ تھے جو کسی تحریک کا مجاہد بننے کے لیے ضروری ہیں۔ پھر عرب کے جزیرہ نما کے گرد اس وقت کی دنیا کی دو سب سے بڑی سلطنتیں قائم کردی گئی تھیں، بالکل فطری تھا کہ وہ اپنے پڑوس میں ایک نئی ابھرتی ہوئی طاقت کو برداشت نہ کریں اور اس کے خلاف جارحیت کا آغاز کر دیں۔ اس طرح ان کی جارحیت اہل اسلام کے لیے جواز فراہم کر دے کہ وہ دنیا کے اس سرے سے اُس سرے تک ملکوں کو فتح کرتے چلے جائیں۔ کیونکہ عملاً اس وقت کی تقریباً تمام دنیا انہی دونوں جارح قوموں کا علاقہ تھی۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ اسلام کی لڑائیاں دوسروں کے خلاف جارحیت نہیں تھیں ۔ بلکہ یہ دوسروں کی جارحیت کا جواب تھا جو ہمیشہ تمام دنیا میں جائز سمجھا گیا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader