Urdu book · پیغمبرِ انقلاب

قبیلہ سے اخراج

Urdu book, p. 210

By Maulana Wahiduddin Khan

وَمِنْعَةٍ، وَبَلَغَهُمْ إِسْلَامُ الْأَنْصَارِ وَمَنْ خَرَجَ إِلَيْهِمْ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ، فَأَجْمَعُوا أَمْرَهُمْ عَلَى أَنْ يَأْخُذُوا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَإِمَّا أَنْ يَقْتُلُوهُ، وَإِمَّا أَنْ يَسْجِنُوهُ، أَوْ يُسْحِبُوهُ - شک عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ - وَإِمَّا أَنْ يُخْرِجُوهُ، وَإِمَّا أَنْ يُوثِقُوهُ (مجمع الزوائد ومنبع الفوائد، حدیث نمبر (9902)۔ یعنی، مشرکین قریش نے جب یہ گمان کر لیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے چلے جائیں گے اور انہیں معلوم ہوا کہ اللہ نے آپ کے لیے مدینہ میں ٹھکانا اور حفاظت کا انتظام کر دیا ہے اور انہوں نے سنا کہ انصار نے اسلام قبول کر لیا ہے اور مہاجرین مدینہ میں جمع ہو رہے ہیں تو انہوں نے آپ کے خلاف سازش کی اور طے کیا کہ آپ کو گرفتار کر لیں اور اس کے بعد یا تو قتل کر دیں یا قید میں ڈال دیں یا شہر بدر کر دیں یا باندھ کر رکھیں۔ اوس وخزرج کے ایمان کے بعد آپ نے چھ مہینے کے دوران سفر کا انتہائی کامل منصوبہ بنایا، اور اس کے بعد نہایت خاموشی سے مکہ سے نکل گئے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page