Urdu book · پیغمبرِ انقلاب

اہل یثرب کا اسلام

Urdu book, p. 211

By Maulana Wahiduddin Khan

اہل یثرب کا اسلام قدیم یثرب (مدینہ) میں دو عرب قبیلے اوس اور خزرج آباد تھے۔ اسی کے ساتھ وہاں چند یہودی قبیلے بھی تھے۔ یہود نے اوس وخزرج کو باہم لڑا رکھا تھا تا کہ وہ یہود کے مقابلہ میں کمزور رہیں اور ان کی مضبوط جمعیت بننے نہ پائے اور اس طرح یہودی بالاتری ان کے اوپر قائم رہے۔ ہجرت نبوی سے پانچ سال پہلے کا واقعہ ہے۔ قبیلہ خزرج یہودیوں کے ابھارنے سے اوس کے خلاف آمادہ جنگ ہو گیا۔ قبیلہ اوس کے ایک سردار ابو الحیسر انس بن رافع چند آدمیوں کو لے کر مکہ آئے تا کہ اپنے حریف کے مقابلہ میں قریش کی مدد حاصل کریں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی آمد کا علم ہوا تو آپ ان کے پاس گئے اور ان کے سامنے اسلام کی دعوت پیش کی۔ ان کے وفد کے ایک نوجوان ایاس بن معاذ اس سے متاثر ہوئے اور انہوں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ یہ خدا کی قسم اس سے بہتر ہے جس کے لیے تم آئے ہو (هٰذَا وَاللَّهِ خَيْرٌ مِمَّا جِئْتُمْ لَهُ) مگر ان کے ساتھیوں کی سمجھ میں یہ بات نہ آسکی۔ ابو الحیسر انس بن رافع اپنے ہاتھ میں مٹی لے کر ایاس بن معاذ کے چہرہ پر پھینکی اور کہا: ان باتوں کو رہنے دو، میری زندگی کی قسم ہم تو اس کے علاوہ کسی اور کام کے لیے آئے ہیں (دَعْنَا مِنْكَ فَلَعَمْرِي لَقَدْ جِئْنَا لِغَيْرِ هٰذَا) سیرت ابن ہشام، جلد 1، صفحہ 28-427۔ اوس کا وفد اسلام قبول کیے بغیر یثرب واپس چلا گیا۔ اس کے بعد اوس اور خزرج کے درمیان وہ جنگ ہوئی جو جنگ بعاث کے نام سے مشہور ہے۔ اس وقت دونوں قبیلوں کے درمیان دشمنی اتنی بڑھ گئی تھی کہ ہر قبیلہ چاہتا تھا کہ دوسرے قبیلہ کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دے۔ اس جنگ میں پہلے خزرج نے اوس کو شکست دی۔ اس کے بعد اوس نے اپنے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page