Urdu book · پیغمبرِ انقلاب

اہل یثرب کا اسلام

Urdu book, p. 212

By Maulana Wahiduddin Khan

سردار ابو اسید بن حضیر کی قیادت میں خزرج کو شکست دی۔ دونوں نے باری باری ایک دوسرے کو زبردست نقصانات پہنچائے۔ حتیٰ کہ ایک نے دوسرے کے باغات اور مکانات جلا ڈالے۔ دونوں عرب قبیلے خود ہی اپنے ہاتھوں کمزور ہو کر رہ گئے۔ اس جنگ کا فائدہ براہ راست یہود کو پہنچا۔ انہوں نے یثرب میں برتری کا مقام حاصل کر لیا۔ جب جذبات ٹھنڈے ہوئے تو دونوں قبائل کے سنجیدہ لوگوں کو احساس ہوا کہ انہوں نے بہت بڑی غلطی کی ہے۔ اپنے کو خود اپنے ہاتھوں ہلاک کر کے دشمن کو موقع دے دیا کہ وہ ان کے اوپر غلبہ حاصل کرلے۔ دونوں قبیلوں کے باشعور لوگوں نے طے کیا کہ وہ اپنے اختلافات کو بھول جائیں اور مشترکہ طور پر اپنا ایک بادشاہ مقرر کرلیں جو ان کے معاملات کا نظم کرے۔ اس کے لیے عبد اللہ بن ابی خزرجی کا انتخاب ہوا جو ایک صاحب شخصیت آدمی تھا اور اپنے اندر قائدانہ اوصاف رکھتا تھا۔ عین اسی زمانہ میں یہ واقعہ ہوا کہ قبیلہ خزرج کے کچھ لوگوں نے کعبہ کی زیارت کے ارادہ سے مکہ کا سفر کیا۔ یہاں ان کی ملاقات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوئی۔ آپ نے ان کو بتایا کہ میں خدا کا نبی ہوں۔ تم لوگ میری دعوت کو قبول کرو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کے وقت ان کو یاد آیا کہ یہود بہت دنوں سے ان سے کہا کرتے تھے کہ ایک غلبہ والا نبی ظاہر ہونے والا ہے۔ ہم اس کے ساتھ ہو کر تم کو شکست دیں گے اور تمہارے اوپر غلبہ قائم کریں گے۔ یثرب والوں نے ایک دوسرے سے کہا: اے لوگو، خدا کی قسم یہ تو وہی نبی ہیں جن کی خبر تم کو یہود دیتے تھے۔ دیکھو، وہ تم سے پہلے اس کی طرف سبقت نہ کرنے پائیں (یَا قَوْمِ، تَعْلَمُوا وَ اللَّهُ إِنَّهُ لِلنَّبِيُّ الَّذِي تُوَعَدُكُمْ بِهِ يَهُودُ، فَلَا تَسْبِقُنَّكُمْ إِلَيْهِ)۔ چنانچہ انہوں نے آپ کی دعوت قبول کر لی۔ انہوں نے مزید کہا: ہم اپنی قوم کو چھوڑ کر آئے ہیں۔ ان میں جتنا شر و عداوت ہے اتنا کسی اور قوم میں نہیں۔ شاید اللہ آپ کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page