Urdu book · پیغمبرِ انقلاب

اہل یثرب کا اسلام

Urdu book, p. 213

By Maulana Wahiduddin Khan

ذریعہ ان کو متحد کردے۔ ہم واپس جا کر اس دین کو ان کے سامنے پیش کریں گے جس کو ہم نے قبول کر لیا ہے۔ اگر اللہ نے ان کو اس دین پر جمع کر دیا تو آپ سے زیادہ اس ملک میں کوئی طاقت ورنہ ہوگا (فَأَجَابُوهُ فِيمَا دَعَاهُمْ إِلَيْهِ، بِأَنْ صَدَّقُوهُ وَقَبِلُوا مِنْهُ مَا عَرَضَ عَلَيْهِمْ مِنَ الْإِسْلَامِ، وَقَالُوا: إِنَّا قَدْ تَرَكْنَا قَوْمَنَا، وَلَا قَوْمَ بَيْنَهُمْ مِنَ الْعَدَاوَةِ وَالشَّرِّ مَا بَيْنَهُمْ، فَعَسَى أَنْ يَجْمَعَهُمُ اللَّهُ بِكَ، فَسَنَقْدَمُ عَلَيْهِمْ، فَنَدْعُوهُمْ إِلَى أَمْرِكَ، وَتَعْرِضُ عَلَيْهِمُ الَّذِي أَجَبْنَاكَ إِلَيْهِ مِنْ هَذَا الدِّينِ، فَإِنْ يَجْمَعْهُمُ اللَّهُ عَلَيْهِ فَلَا رَجُلَ أَعَزُّ مِنْكَ) سیرت ابن ہشام، جلد 1، صفحہ 429۔ تاریخ بتاتی ہے کہ اس کے بعد یثرب کے لوگ جوق در جوق اسلام لائے۔ وہ اسلام کے انصار (مددگار) بن گئے۔ ان کی قربانی اور تعاون سے اسلام کو عرب میں غلبہ حاصل ہوا۔ یثرب کے لوگوں نے ہجرت سے پانچ سال پہلے آپ کی دعوت کو غیر اہم سمجھ کر نظر انداز کر دیا تھا۔ مگر پانچ سال بعد یہی لوگ آپ کے مومن بن گئے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ پہلی ملاقات کے وقت ان کے ذہن میں جنگ کے خیالات بھرے ہوئے تھے۔ وہ سارے معاملہ کو اس نقطۂ نظر سے دیکھتے تھے کہ ان کا ایک دشمن ہے اور اس دشمن کو انہیں شکست دینا ہے۔ ان کی نفسیات پر جنگ کے مسائل چھائے ہوئے تھے۔ اس ذہنی پس منظر میں خدا اور آخرت کی باتیں انہیں غیر متعلق بلکہ تباہ کن معلوم ہوتی تھیں۔ ان کو ایسا نظر آتا تھا گویا ان کو اصل محاذ سے ہٹایا جا رہا ہے۔ مگر جب جنگ بعاث میں ساری طاقت خرچ کرنے کے بعد ان کے حصہ میں صرف تباہی آئی۔ حتیٰ کہ یہ اندیشہ پیدا ہوا کہ یہودان کولٹر الڑا کر ان کی عرب نسل کا خاتمہ کر دیں گے تو ان کا ذہن بدلنا شروع ہو گیا۔ اب وہ معاملہ کو جنگ سے وسیع تر دائرہ میں رکھ کر دیکھنے لگے۔ اب وہ جنگ کے بجائے امن، اختلاف کے بجائے اتحاد کی اصطلاحوں میں سوچنے لگے۔ ان

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page