ہجرت
Urdu book, p. 215
By Maulana Wahiduddin Khan
ہجرت ہجرت کا واقعہ اسلامی تاریخ کا اہم ترین واقعہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرام نے اس کو اسلامی کیلنڈر کے آغاز کے لیے استعمال کیا۔ مگر اس واقعہ کی اصل حقیقت طلسماتی کہانیوں میں گم ہوگئی ہے۔ مثال کے طور پر کہا جاتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب غار ثور میں داخل ہوئے تو مکڑی نے اس کے منہ پر جال تن دیا اور اس کے بعد فاختہ آئی اور اس نے جالے کے اوپر انڈے دے دیے۔ مگر اس معاملہ میں وہی ہوا جو عام طور پر اس طرح کے واقعات میں ہوتا ہے۔ یعنی اصل بات پر اپنے تخیل سے اضافہ کر کے اس کو کچھ سے کچھ بنا دیا۔ جیسا کہ ابن کثیر نے واضح کیا ہے، اس معاملہ میں صحیح ترین روایت وہ ہے جو امام احمد نے حضرت عبداللہ بن عباس کے حوالہ سے نقل کی ہے۔ اس روایت کے الفاظ یہ ہیں: فَاقْتَفُوا أَثَرَه، فَلَمَّا بَلَغُوا الْجَبَلَ خُلِّطَ عَلَيْهِمْ، فَصَعَدُوا فِي الْجَبَلِ، فَمَرُّوا بِالْغَارِ، فَرَأَوْا أَعْلَى بَابِهِ نَسْجَ الْعَنْكَبُوتِ، فَقَالُوا: لَوْ دَخَلَ هَاهُنَا لَمْ يَكُنْ نَسْجُ الْعَنْكَبُوتِ عَلَى بَابِهِ (مسند احمد، حدیث نمبر 3251، وهو ضعيف)۔ یعنی، وہ آپ کے نشانات پر چلے۔ جب وہ پہاڑ تک پہنچے تو راستہ ان پر مشتبہ ہو گیا۔ پھر وہ پہاڑ پر چڑھے اور غار سے گزرے۔ انہوں نے دیکھا کہ غار کے منہ پر مکڑی کا جالا ہے۔ یہ دیکھ کر انہوں نے کہا کہ اگر وہ یہاں داخل ہوتے تو اس کے منہ پر مکڑی کا جالا باقی نہ رہتا۔ اگر یہ مان لیا جائے کہ انہوں نے جو غار دیکھا وہ غار ثور ہی تھا تب بھی مذکورہ روایت کے مطابق بات صرف اتنی ہے کہ انہوں نے اس کے منہ پر مکڑی کا جالا دیکھا۔ روایت میں یہ باتیں بالکل موجود نہیں ہیں کہ خدا نے حکم دیا تو ایک مکڑی آئی اور اس نے جالا تن دیا۔ پھر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader