پیغمبرِ انقلاب
Urdu book, p. 216
By Maulana Wahiduddin Khan
خدا نے فاختہ کو حکم دیا تو فاختہ آئی اور اس نے وہاں انڈے دے دیے۔ اس قسم کی تمام باتیں لوگوں نے اپنے تخیل سے اصل واقعہ پر اضافہ کر لیں۔ اس قسم کے اضافوں کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ آدمی کی نگاہ عجائبات اور طلسمات کی طرف چلی جاتی ہے اور حکمت اور نصیحت کا پہلو نگاہوں سے اوجھل ہو جاتا ہے۔ مہاجرین کی نصرت مدینہ کے قبائل (انصار) نے جس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کا ساتھ دیا وہ تاریخ کا ایک حیرت انگیز واقعہ ہے۔ لوگ کسی کو کوئی چیز دیتے ہیں تو وہ یا بدلہ کے طور پر ہوتا ہے یا خوف کی وجہ سے۔ لین دین کی تیسری قسم وہ ہے جو ’’برکت‘‘ کے تصور کے تحت وجود میں آتی ہے۔ کچھ زندہ یا مردہ لوگوں کے بارے میں یہ فرض کر لیا جاتا ہے کہ وہ ’’بزرگ‘‘ ہیں اور ان کے اوپر خرچ کرنا یا چڑھاو ا چڑھانا اولاد اور اموال میں ترقی کا باعث ہوگا۔ مگر معلوم انسانی تاریخ میں غالباً یہ پہلی نمایاں مثال ہے کہ ایک قوم نے خالص مقصدی بنیادوں پر لٹے پٹے مہاجرین کے لیے اپنے دروازے کھول دیے ۔ ان کو نہ صرف اپنے گھروں میں جگہ دی بلکہ مواخات قائم کر کے ان کو سگے بھائی کی طرح اپنی جائیدادوں میں حصہ دار بنا دیا۔ اور یہ سب کچھ یہ جانتے ہوئے کہ مہاجرین کی یہ امداد صرف اقتصادی قربانی ہی کا معاملہ نہیں ہے بلکہ یہ عرب و عجم کے خلاف اعلانِ جنگ ہے۔ حضرت علی کے یہ دو الفاظ ان کی بہترین تصویر ہیں : کَانُواْ اَصْدِقَاءَ صَبْرَاءَ (البدایہ والنہایہ، جلد 3 ، صفحہ 145 ) ۔ یعنی (اوس وخزرج کے لوگ) بڑے سچے اور بڑے صبر کرنے والے تھے۔ جب مہاجرین اپنا وطن چھوڑ کر یثرب پہنچے تو انصار کا یہ حال تھا کہ ہر ایک یہ چاہتا تھا کہ مجھے میزبانی کا شرف حاصل ہو۔ حتیٰ کہ اس کے لیے قرعہ اندازی کی نوبت آ گئی۔ انہوں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader