Urdu book · پیغمبرِ انقلاب

مہاجرین کی نصرت

Urdu book, p. 217

By Maulana Wahiduddin Khan

نے اپنے اموال کے بہترین حصہ کو مہاجرین کے حوالے کر دیا (وَلَقَدْ تَشَاحُوا فِينَا حَتَّى أَنْ كَانُوا لَيَقْتَرِعُونَ عَلَيْنَا ثُمَّ كُنَّا فِي أَمْوَالِهِمْ أَحَقَّ بِهَا مِنْهُمْ) دلائل النبوة لابی نعیم، حدیث نمبر 224۔ ان کے غیر معمولی ایثار کے باوجود ان سے باقاعدہ بیعت لی گئی کہ عہدوں کی تقسیم میں دوسروں کو ان پر ترجیح دی جائیگی (أَثْرَةً عَلَيْنَا) مگر وہ اس کے لیے جھگڑا نہ کریں گے (وَعَلَى أَنْ لَا نُنَازِعَ الْأَمْرَ أَهْلَهُ) صحيح مسلم، حدیث نمبر 1709۔ تا ہم ہجرت کے بعد مدینہ کی زندگی آپ کے لیے کوئی آرام کی زندگی نہ تھی۔ اہل عرب کی متحدہ جارحیت کے بارے میں تمام اندیشے اپنی بد ترین شکل میں صحیح ثابت ہوئے۔ حضرت ابی بن کعب بیان کرتے ہیں: لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ الْمَدِينَةَ وَآوَاهُمُ الْأَنْصَارُ رَمَتْهُمُ الْعَرَبُ عَنْ قَوْسٍ وَاحِدَةٍ وَكَانُوا لَا يَبِيتُونَ إِلَّا فِي السِّلَاحِ وَلَا يُصْبِحُونَ إِلَّا فِي كَذَا (الأحاديث المختارة لضياء المقدسي، حدیث نمبر 1145)۔ یعنی، جب آپ اور آپ کے اصحاب مدینہ آئے اور انصار نے انہیں پناہ دی تو تمام عرب نے مل کر آپ کو نشانہ پر لے لیا۔ مدینہ کے مسلمانوں کا حال یہ ہوا کہ وہ ہتھیاروں کے ساتھ رات گزارتے اور ہتھیار کے ساتھ صبح کرتے۔ قریش نے تمام عرب میں اہل مدینہ کے معاشی بائیکاٹ کا اعلان کر دیا۔ شہر کی معاشیات اچانک بڑھ جانے والی دگنا آبادی کے لیے انتہائی ناکافی ہو گئیں۔ اس پر مزید آئے دن ہونے والی جنگوں کے اخراجات، ان چیزوں نے معاشی تنگی کو اپنے آخری درجہ پر پہنچا دیا۔ حضرت عمر کہتے ہیں کہ میں نے پیغمبر اسلام کو مدینہ میں دیکھا ہے۔ آپ سارے دن بھوک سے بے قرار رہتے۔ ردی کھجوریں بھی اتنی میسر نہ آتیں جس سے اپنا پیٹ بھر سکیں۔ بعد کے دور میں حضرت عائشہ سے کسی نے چراغ کا ذکر کیا تو انہوں نے جواب

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page