Urdu book · پیغمبرِ انقلاب

مہاجرین کی نصرت

Urdu book, p. 218

By Maulana Wahiduddin Khan

دیا: اگر ہمارے پاس چراغ جلانے کے لیے تیل ہوتا تو اس کو ہم پی جاتے۔ غزوات میں بے سروسامانی کا عالم یہ تھا کہ حضرت ابو موسیٰ فرماتے ہیں، ہم لوگ آپ کے ہمراہ غزوہ کے لیے نکلے۔ ہمارے پاس چھ آدمیوں کے درمیان صرف ایک اونٹ تھا جس پر ہم باری باری سوار ہوتے۔ مسلسل پیدل چلنے کی وجہ سے ہمارے قدم چھلنی ہو گئے اور ہم نے اپنے پیروں پر چیتھڑے لپیٹ لیے، اسی لیے اس غزوہ کا نام ذات الرقاع (چیتھڑوں والا) رکھا گیا۔ غزوات کے سفر میں کھانے کا ذخیرہ اتنا کم ہوتا تھا کہ بعض اوقات لوگ کھجور کو کھانے کے بجائے چوستے تھے۔ اور بقیہ کمی کو ببول کے پتوں اور ٹڈیوں کے ذریعہ پوری کرتے تھے۔ اس پر مزید اضافہ وہ بیماری تھی جو غذائی عادت کی تبدیلی سے پیدا ہوئی۔ مکہ کے باشندے گوشت اور دودھ کے عادی تھے۔ مدینہ میں انہیں کھجور کھانے کو ملی۔ طبرانی نے روایت کیا ہے کہ ایک روز جب کہ آپ جمعہ کی نماز پڑھانے کے لیے مسجد میں تشریف لائے، ایک مکی مسلمان نے چلا کر کہا: یَا رَسُولَ اللهِ أَحْرَقَ بُطُونَنَا التَّمْرُ (مسند احمد، حدیث نمبر 15988)_ یعنی، اے خدا کے رسول! کھجور نے ہمارے پیٹوں کو جلا دیا۔ آپ کے مدینہ پہنچنے کے بعد اسلام عملی اور تاریخی طور پر دعوت کے مرحلہ سے نکل کر عملی مقابلہ کے مرحلہ میں داخل ہو گیا۔ دورِ دعوت میں آپ کا اصول یہ تھا کہ لوگوں کے معاشی، سیاسی، قبائلی اور اس طرح کے دوسرے نزاعی مسائل کو نہ چھیڑتے ہوئے اور اس سے بے تعلق رہ کر خالص ''انذار وتبشیر‘‘ کے کام میں مشغول رہیں۔ بنی عامر بن صعصعہ کو آپ نے سوق عکاظ میں اسلام کی دعوت دی تو انہیں یہ بھی یقین دہانی کرائی کہ میں صرف پُرامن طور پر اپنا دینی پیغام پہنچاؤں گا۔ اس کے علاوہ تمہارے درمیان کوئی سیاسی، اقتصادی یا قبائلی جھگڑا نہیں کھڑا کروں گا۔ آپ نے ان سے فرمایا:

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page