مہاجرین کی نصرت
Urdu book, p. 219
By Maulana Wahiduddin Khan
اِنِّي رَسُولُ اللَّهِ، فَإِنْ أَتَيْتُكُمْ تَمْنَعُونِي حَتَّى أُبْلِغَ رِسَالَةَ رَبِّي وَلَمْ أُكْرِهْ أَحَدًا مِنْكُمْ عَلَى شَيْءٍ (ابو نعیم ، دلائل النبوۃ، حدیث نمبر 215)۔ یعنی، میں اللہ کا رسول ہوں۔ میں تمہارے یہاں آؤں تو کیا تم میری حفاظت کرو گے تا کہ میں اللہ کے پیغام کو لوگوں تک پہنچادوں اور میں تم میں سے کسی کو کسی چیز پر مجبور نہیں کروں گا۔ بعثت کے اصل مقصد کی حیثیت سے یہ کام اب بھی بدستور جاری تھا۔ مگر اب اسلام کو ایک اور چیز سے نمٹنا تھا۔ اور وہ ماحول کے پیدا کردہ عملی مسائل تھے۔ اس سلسلے میں آپ نے اپنے سامنے بنیادی اصول یہ رکھا کہ ایسے طریقے اختیار کیے جائیں جن سے لوگوں کے دل اسلام کے لیے نرم ہو جائیں، اور لڑائی بھڑائی کے بغیر اسلامی مقاصد تک پہنچنا ممکن ہو سکے۔ یہی وہ بات ہے جس کو آپ نے ان لفظوں میں بیان فرمایا ہے: نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ مَسِیرَةَ شَهْرٍ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 335)۔ یعنی، ایک مہینہ تک کی مسافت کے رعب سے میری مدد کی گئی ہے۔ اس طریق عمل کے دو خاص پہلو تھے۔ ایک قوت مرہبہ کا حصول (الانفال، 8:60)، دوسرا تالیف قلب (التوبہ، 9:60)۔ تالیف قلب کے تحت آپ نے لوگوں کو اس کثرت سے اموال دیے کہ دادو دہش کی تاریخ میں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ صفوان بن امیہ مکہ کے بڑے سردار تھے۔ فتح مکہ کے بعد وہ بھاگ کر ایک گھاٹی میں چھپ گئے۔ آپ نے انہیں امان دے کر بلایا۔ ہوابزن کی فتح کے بعد جب آپ جعرانہ کے مقام پر مال غنیمت کی دیکھ بھال کر رہے تھے، اس وقت صفوان بن امیہ آپ کے ساتھ تھے اور ابھی حالت کفر میں تھے۔ صفوان بن امیہ ایک گھاٹی پر پہنچے جو بکریوں اور اونٹوں سے بھری ہوئی تھی۔ وہ حیرت واستعجاب کے ساتھ مسلسل اس کو دیکھتے رہے۔ آپ نے ان کا یہ حال دیکھ کر پوچھا ”اے ابو وہب! کیا یہ مال سے بھری

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader