Urdu book · پیغمبرِ انقلاب

نبوتِ محمدی کا ظہور

Urdu book, p. 22

By Maulana Wahiduddin Khan

اس طرح جو واقعات ظہور میں آئے ۔ ان کی اہمیت صرف سیاسی نہ تھی ۔ اس سے زیادہ بڑی بات یہ تھی کہ اس انقلاب کے ذریعہ انسانی تاریخ کے بند دروازے کو کھول دینا مقصود تھا۔ اس کے ذریعہ وہ انقلاب آنا تھا جو دین حق کو ایک تاریخی حقیقت بنا دے، جو اس سے پہلے تاریخی واقعہ کی حیثیت حاصل کرنے سے محروم تھا۔ وہ پریس کا دور لے آئے جس کے بعد قرآن کی دائمی حفاظت کا انتظام ہو جائے ۔ آزادی اور جمہوریت کا زمانہ آئے جو داعیان حق کے لیے حق کی اشاعت کی راہ سے تمام مصنوعی رکاوٹوں کو ہٹا دے ۔ اس سے طبیعیاتی علوم کی وہ دریافتیں ظاہر ہوں جو دین کی صداقت کو عقلیاتی سطح پر مدلل ومبرہن کر دیں۔ اس انقلاب کا اس سے بھی اہم پہلو یہ ہے کہ نبی کے ذریعہ اللہ تعالی نے قیامت سے پہلے قیامت کا منظر دکھا دیا۔ سچے لوگوں کو آپ کے ذریعہ غالب کر دیا گیا جو آخرت میں دائمی برتری حاصل کریں گے ، اور برے لوگوں کو آپ کے ذریعہ مغلوب کر دیا گیا جو آخرت میں دائمی پستی اور مغلوبیت کا شکار رہیں گے۔ تاریخ کا یہ اندوہناک منظر ہے کہ خدا کے سچے پرستار یہاں ہمیشہ دبے اور پسے ہوئے نظر آتے ہیں، اور دولت اور اقتدار کو پوجنے والوں کو یہاں تفوق حاصل رہتا ہے۔ تمام انبیاء اور صلحاء کی تاریخ یہی بتاتی ہے ۔ یہ صورت حال حقیقی صورت حال کے بالکل برعکس ہے ۔ کیونکہ بالآخر جو ہونے والا ہے، وہ تو یہ ہے کہ خدا اپنے پرستاروں کو دائمی عزت اور برتری عطا فرمائے گا اور جو لوگ اپنے نفس کی اور دنیا کی پوجا میں لگے رہے، ان کو ہمیشہ کے لیے ذلت اور رسوائی میں دھکیل دے گا۔ یہ دنیا امتحان کی جگہ ہے۔ یہاں لوگوں کو موقع ہے کہ وہ جو چاہیں کریں۔ اس لیے یہاں خدا کسی کا ہاتھ نہیں پکڑتا۔ تا ہم پیغمبر اسلام کے ذریعہ، کم از کم ایک بار، اس زمین پر وہ منظر ابتدائی شکل میں دکھا دیا گیا ہے جو کامل اور دائمی صورت میں آخرت میں سامنے آنے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page