Urdu book · پیغمبرِ انقلاب

مہاجرین کی نصرت

Urdu book, p. 220

By Maulana Wahiduddin Khan

ہوئی گھاٹی تم کو پسند ہے، صفوان نے کہا ہاں۔ آپ نے فرمایا: ھُو لَكَ وَمَا فِيْهِ (وہ اور اس میں جو کچھ ہے، سب تمہارا ہے)۔ صفوان نے یہ سن کر کہا، نبی کے سوا کسی کا نفس اتنی بڑی سخاوت نہیں کر سکتا (مَا طَابَتْ نَفْسُ أَحَدٍ بِمِثْلِ هَذَا إِلَّا نَفْسَ نَبِيّ) ۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں۔ اور اسی وقت اسلام قبول کر لیا (وَأَسْلَمَ مَكَانَهُ) مغازی الواقدی، جلد 2، صفحہ 855۔ آپ کا متعدد شادیاں کرنا بھی ایک اعتبار سے اسی ذیل کا ایک واقعہ ہے۔ قبائلی نظام میں رشتہ داری اولین اہمیت کی چیز سمجھی جاتی تھی۔ ہجرت کے بعد آپ کی کئی شادیاں کرنے کا اہم پہلو یہ تھا کہ اس کے ذریعہ بے شمار لوگوں سے رشتہ داریاں قائم ہوگئیں اور ان کے قلوب آپ کے اور آپ کی دعوت کے حق میں نرم پڑ گئے۔ پہلی شادی کے علاوہ، جو آپ نے تقریباً پچاس برس کی عمر سے نبوت سے پہلے کی تھی۔ دوسری شادیاں حقیقتاً ازدواجی تقاضے کے تحت وقوع میں نہیں آئیں، بلکہ ان کے ذریعہ اہم دعوتی اور سیاسی فائدے حاصل کرنا مقصود تھا۔ معاہدہ حدیبیہ کی رو سے اگلے سال (628ء) آپ دو ہزار مسلمانوں کے ساتھ کعبہ کی زیارت کے لیے مکہ گئے۔ اس موقع پر تین روزہ قیام کے دوران آپ نے میمونہ بنت الحارث سے نکاح کیا جو بیوہ ہوگئی تھیں۔ میمونہ کی آٹھ بہنیں تھیں جن کی شادی مکہ کے آٹھ ممتاز گھرانوں میں ہوئی تھی۔ آپ نے میمونہ سے نکاح کر کے آٹھ خاندانوں سے اپنی رشتہ داری قائم کر لی۔ نیز خالد بن ولید میمونہ کے بھانجے تھے اور انہوں نے ان کو اپنے بچے کی طرح پالا تھا۔ نکاح کے بعد قریش کا سب سے بڑا فوجی سردار آپ کا بیٹا ہو گیا۔ چنانچہ اس کے بعد پھر خالد بن ولید مسلمانوں کے خلاف کسی معرکہ میں نہیں نکلے اور جلد ہی مسلمان ہو گئے۔ اس تقریب سے آپ نے مکہ والوں کی دعوت ولیمہ کا بھی انتظام کیا تھا۔ مگر مکہ والوں نے کہا کہ معاہدہ کے مطابق آپ صرف تین روز مکہ میں ٹھہر سکتے ہیں اور یہ مدت پوری ہو چکی ہے، آپ کو فوراً واپس جانا چاہیے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page